خطبات محمود (جلد 3) — Page 627
خطبات محمود ۶۲۷ جلد سوم نے اس میں سے کھانا شروع کر دیا کتے کو تو خیر بھگا دیا مگر والدہ نے کہا یہ باقی کھیر ضائع کیوں جائے جاؤ ملاں جی کو دے آؤ۔چنانچہ میں لے کر آپ کے پاس آگیا ہوں۔ملاں جی نے جب یہ سنا تو سخت طیش میں آگئے اور تھالی کو دور پھینکا جو گرتے ہی ٹوٹ گئی۔یہ دیکھ کر لڑکا رونے لگ گیا۔ملاں جی نے کہا کمبخت اس میں رونے کی کیا بات ہے تم کھیر لائے تھے اور میں نے قبول نہیں کی بس قصہ ختم اور تھالی جو ٹوٹی ہے وہ معمولی بات ہے۔لڑکا کہنے لگا ہے تو معمولی مگر والدہ مجھے سخت مارے گی کیونکہ یہ تھالی نھے کے پاخانہ والی تھی اب ہمارا انتھا کس میں پاخانہ بیٹھے گا۔اب دیکھو یہ حالت مسلمانوں کے ملاؤں کی ہے۔اس کے مقابلہ میں پادریوں کو دیکھ لو ان کو بڑی سے بڑی مجالس میں بھی عزت کے ساتھ اونچی جگہ پر بٹھایا جاتا ہے اور ان کا پورا احترام کیا جاتا ہے۔پچھلے دنوں جو برطانیہ کے شہنشاہ کی معزولی کا واقعہ ہوا تھا اور جس کے چرچے گھر گھر ہوتے رہے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ شہنشاہ کے بعض عیسائیت کے خلاف عقائد کی وجہ سے انگلستان کے لاٹ پادری نے اعتراض کر دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ایسا ہوا تو میں سرکاری مواقع میں کوئی حصہ نہیں لوں گا۔چنانچہ جب شہزادہ نے اس کی بات کو نہ مانا تو اس کو تخت سے دست بردار ہونے کے لئے مجبور کر دیا گیا۔یہی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے قوم ترقی کر گئی ہے۔پھر پادریوں کے کام کے لئے بڑے بڑے خاندانوں کے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے آگے آتے ہیں اور ان کو جہاں کہیں بھیجا جاتا ہے وہ بلا پس و پیش جاتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب وقف کے سلسلہ میں ہماری جماعت کا قدم بھی دن بدن آگے بڑھ رہا ہے لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے کہ زندگیاں وقف کرنے والوں کے بارہ میں ان کے رشتہ داروں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ لوگ کھائیں گے کہاں سے؟ اور یہ ایک ایسا سوال ہے جو عیسائیوں جیسی مشرک قوم کے پادریوں نے انیس سو سال کا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود نہیں کیا تھا اور ان کو کبھی یہ خیال نہ آیا تھا کہ وہ کھا ئیں گے کہاں سے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے ایک صدی بھی گزرنے نہ دی اور یہ سوال پیش کر دیا۔ذرا خیال تو کرو کہ جب جڑہی اس قسم کی ہوگی تو آگے درخت کی کیا حالت ہوگی۔اگر روٹی کی کوئی حقیقت ہے تو خدمت دین کی بھی کوئی حقیقت ہونی چاہئے کیا روٹی اور سالن دین کی خدمت سے زیادہ قیمتی ہیں۔ایک شخص جو صدق دل سے دین کی خدمت پر کمر بستہ ہو تا ہے اس کے دل کے اندر یہ خیال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ وہ کھائے گا کہاں سے کیونکہ اس کا اللہ ویر