خطبات محمود (جلد 3) — Page 533
خطبات محمود ۵۳۳ جلد سوم کی آوازیں آرہی تھیں وہاں کسی شادی کی وجہ سے گانا بجانا ہو رہا ہوتا ہے ۔ ایک وقت میں ایک انسان اس دنیا سے جدا ہو رہا ہوتا ہے اور اس کی اولاد اس کے رشتہ دار اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں او ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کون ساری عمر کسی آدمی کے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر سکتا ہے۔ لتا ہے ۔ مگر کچھ دنوں کے بعد ہی وہی آدمی بوڑھے ہو جاتے ہیں اور ا اور اگلی نسلیں ان سے ویسا ہی سلوک کرنے لگ جاتی ہیں ۔ ان دنوں شاید ان کو خیال آتا ہو گا کہ اگر ہم اپنے ماں باپ سے یہ سلوک نہ کرتے تو ہماری اولادیں بھی ہم سے یہ سلوک نہ کرتیں مگر یہ سلسلہ چلتا ہے چلتا ہے اور چلتا چلا جاتا ہے ۔ بائیبل میں بہت سی باتیں غلط ہیں لیکن اس میں بعض سکتے بھی ہیں ان ہی میں سے ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ تیرے بیٹے کو غیر گھر کی ایک عورت آکر اپنا بنائے گی اور تیری طرف سے اس کے دل کو بالکل پھر ا لے گی ۔ کس طرح یہ نظارے روزانہ گھروں میں نظر آتے ہیں، کس طرح وہ بچہ جو ماں کی چھاتیوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔ جس کی غذا ماں کی چھاتیوں کے دودھ سے تیار ہوتی تھی اس کا دودھ ماں نے کس مصیبت سے چھڑایا، کس طرح وہ راتوں کو چیختا بلبلاتا اور شور مچاتا تھا اور کس طرح اس کا تمام سکھ اور آرام ماں میں ہی مرکوز ہوتا تھا، کس طرح کو نین لگا لگا کر نو شادر لگا لگا کر اور کیا کیا بلائیں لگا لگا کر اس نے اپنے پستان کو اس کے لئے مکروہ بنایا اور کن کن مصیبتوں سے اس کا دودھ چھڑایا۔ پھر جب وہ رونی کھانے لگ گیا تو اس وقت بھی وہ ہر وقت اپنی ماں کا دامن پکڑے رہتا تھا اور ایک منٹ کے لئے بھی اپنی ماں سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ وہ شادی کر کے لایا اور اس شادی کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہی بچہ جو بچپن میں اپنی ماں کی گود سے نہیں اترتا تھا جو اس کے پستانوں سے دودھ پیتا تھا اور جس کا دودھ چھڑایا گیا تو سارا دن وہ رہیں رہیں کرتا رہتا تھا ذرا ماں اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی تو وہ اماں اماں کہہ کر چیخیں مارنے لگ جاتا شادی کے بعد اس کی اپنے ماں باپ کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی۔ مگر اس کے بیوی اور بچے ہی اس کی خوشیوں کا مرکز بن جاتے ہیں اور اگر کوئی آدمی اس کو نصیحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو اپنے ماں باپ کی خدمت کرنی چاہئے اگر تو وہ شریف ہوتا ہے تو کہتا ہے مجھے بھی خیال ہے مگر گھر کے اخراجات سے کچھ بچتا ہی نہیں ۔ آخر میری بیوی ہے بچے ہیں اور میرے ذمہ ان سب کے اخراجات ہیں میں ان اخراجات کو پہلے پورا کروں تو پھر کسی اور کی خدمت کروں ۔ گویا جن کی گودوں میں وہ پلا تھا ان کو اب اپنے گھر سے باہر سمجھنے لگ جاتا ہے اور اگر وہ غیر شریف ہوتا۔