خطبات محمود (جلد 3) — Page 500
خطبات محمود جلد سوم بڑے بڑے لوگ بلکہ چوٹی کے خاندانوں میں جو ملک کے لیڈر ہیں یا سر وغیرہ کے خطاب رکھتے ہیں وہ بھی جاکر کہیں گے کہ دو گے کیا؟ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لڑکے کو جس چیز کا زیادہ شوق ہو وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے۔مثلاً اگر اسے موٹر کا شوق ہے تو وہ کہہ دے گا مجھے موٹر لے دو یا اور جس چیز کی خواہش کرے لڑکی والے مہیا کر دیتے ہیں خواہ اس بیچارے میں اتنی طاقت نہ ہو اور اگر وہ کہہ دے کہ فلاں مطالبہ کو پورا کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں تو لڑکے والے کہیں گے کہ اگر طاقت نہیں تو ہم تمہاری لڑکی لینے کے لئے تیار نہیں۔جاؤ کسی اور کو لڑکی دے دو۔حتی کہ بعض اوقات نہایت تکلیف دہ حالات پیش آجاتے ہیں اور کئی موقعوں پر تو لڑکیوں نے ایسی باتوں سے تنگ آکر خود کشیاں کرتی ہیں۔بنگم پیٹر جی ایک بنگالی مصنف نے کئی ایسے واقعات لکھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ قوم کے جو لوگ ایسے کام کرتے ہیں جن میں وہ اپنے اموال کو تباہ و برباد کرتے ہیں وہ اپنی دنیاوی خواہشوں کے مطابق خرچ کریں گے مگر اس طریق پر جسے ہر مذہب کے داناؤں نے پیش کیا ہے نہیں چلیں گے۔اسی طرح ہمارے مسلمانوں کا حال ہے ان میں بھی شادی بیاہ کے موقعوں پر نہایت بے دردی سے روپیہ اڑا دیا جاتا ہے حالانکہ اسلام نے نہایت سادہ طریق پر شادیاں کرنے کا حکم دیا تھا۔چنانچہ خود رسول کریم ان کی اپنی لڑکی کا بیاہ دیکھو وہ کیسا سادہ تھا۔مسجد میں صحابہ جمع ہیں رسول کریم ﷺ تشریف لاتے ہیں اور اپنی لڑکی حضرت فاطمہ کا حضرت علی سے نکاح کا اعلان فرماتے ہیں، پھر چند عورتیں لڑکی کو رخصت کر کے لانے کے لئے آپ کے گھر جاتی ہیں، آپ نے دودھ کا پیالہ منگوایا، اپنی لڑکی اور داماد کو پلایا اور دعا کر کے لڑکی کو رخصت کر دیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکیوں کو کچھ دیتا ہی نہیں چاہئے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس وقت رسول کریم کی حالت ایسی ہی تھی کہ آپ کچھ دے نہیں سکتے تھے۔در حقیقت اس میں آپ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ جیسی جیسی تمہاری حالت ہوا کرے دیسا ہی معاملہ کرلیا کرد۔اسی طرح آج کل بڑی شان و شوکت سے رہے کئے جاتے ہیں خواہ اپنی حیثیت اس قسم کے دیموں کو برداشت نہ کر سکتی ہو۔دیکھ لو رسول کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے کیا حکم دیا ہے آپ فرماتے ہیں اولِم وَ لَوْ بِشَاہ سے کہ ایک امری ربج کر کے ولیمہ کر دو اور لوگوں کو کھانا