خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 499

خطبات محمود ۲۹۹ جلد سوم لگائی اور وہ قید جو محمد رسول اللہ ﷺ نے لگائی ہے اس کو اپنے اوپر نہیں لگائیں گے۔اسی طرح زکوۃ ہے۔لوگ مال خرچ کر لیتے ہیں مگر اس میں سے زکوۃ نہیں نکالیں گے۔گو ہمارے ملک میں تو اب حالت ایسی ہے کہ لوگوں کے پاس اتنا روپیہ ہی نہیں ہوتا اور جو کوئی روپیہ پیسہ ہوتا بھی ہے تو اس کے متعلق " آیا کھایا اور اڑایا " والی کیفیت ہوتی ہے اور جس گھر میں روپیہ آیا اور کھایا اڑایا والا معاملہ ہوتا ہے تو وہاں زکوۃ کیسے لگے گی۔مگر باوجود اس کے آخر انسان بعض موقعوں کے لئے روپیہ جمع کر کے رکھتے ہیں مثلاً بیاہ شادی کے موقعوں کے لئے عموماً لوگ کچھ نہ کچھ جمع کرتے ہیں اور جو مال زکوۃ کے نصاب کو پہنچے اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے لیکن لوگ زکوۃ کے لئے تو اس میں سے کچھ نہیں دیں گے اور سارا مال بیاہ شادیوں کے موقع پر اڑا دیں گے۔تو روپیہ تو وہ بھی خرچ کر دیتے ہیں مگر جہاں اللہ تعالی اور رسول کریم ا نے خرچ کرنے کی قید لگائی ہے وہاں خرچ نہیں کریں گے۔تو بے شک بہت سی پابندیاں رسول کریم ﷺ نے آکر لگائی ہیں مگر وہ پابندیاں بہت زیادہ ہیں جو آج مسلمانوں نے خود اپنی مرضی سے اپنے اوپر لگارکھی ہیں اور جن میں وہ اپنا تمام روپیہ تباہ کر رہے ہیں۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا فیروز پور کا ایک واقعہ میں نے اخباروں میں پڑھا تھا کہ ایک شخص نے شاید ساٹھ روپے ماہو کار سے لئے تھے اور اب وہ ننانوے ہزار روپے سود در سود بن کر ہو گئے ہیں۔اسلام نے بھی گو پابندیاں رکھی ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ ہم تمہارے اوپر اتنا بوجھ ڈالیں گے جتنا تم اٹھا سکو گے۔مگر ہم لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کر کے اپنی مرضی سے اپنے اوپر نا قابل برداشت بوجھ ڈال رکھے ہیں اور جہاں خدا کے دین کے لئے خرچ کرنے کو کہو تو کہیں گے جی کہاں سے دیں ؟ ہمیں تو آپ کھانے تک کو نہیں ملتا۔اسی طرح بیاہ شادی ہے عیسائی، ہندو، مسلمان و غیرہ سب ہی بیاہ شادیوں پر پانی کی طرح روپیہ بہاتے ہیں بلکہ مسلمان تو چونکہ ہندو بنیوں سے لے لے کر اخراجات کرتے رہتے ہیں اس لئے وہ جو کچھ کماتے ہیں ان کی وہ ساری کمائی بننے کے گھر ہی چلی جاتی ہے اور بننے بھی جو کچھ جمع کرتے رہتے ہیں وہ جیسا کہ مثل مشہور ہے " بننے کی کمائی بیاہ یا مکان نے کھائی"۔سب بیاہ شادی کے موقعوں پر اڑا دیتے ہیں۔چنانچہ ہندوؤں کا سارا روپیہ بیاہ کے موقع پر لڑکے والے لے جاتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ان میں رواج ہے کہ جب بیاہ پر جاتے ہیں تو لڑکے والے لڑکی والوں سے کہتے ہیں بتاؤ کیا دو گے۔چنانچہ بنگال کی طرف یہ عام رواج ہے 03-