خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 501

خطبات محمود کھلا دو۔۵۰۱ جلد سوم اسی طرح صر ہے لوگ اب اپنی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر مہر باندھتے ہیں بلکہ ہمارے ملک میں تو لاکھوں تک بھی مہرباندھے جاتے ہیں۔مگر وہ صر صرف باندھے ہی جاتے ہیں ان کے ادا کرنے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔اس وقت جس نوجوان کا نکاح ہے ان کے والد پیر اکبر علی صاحب کا نکاح بھی میں نے ہی پڑھا تھا اس میں مہر دس ہزار روپیہ تھا میں جب نکاح پڑھنے لگا تو میں نے پیر صاحب سے کہا کہ اگر یہ مہر دینے کی نیت ہے تو اتنا مہرباند ھیں ورنہ کم کر دیں۔اس پر وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضور اب میں نیت کرتا ہوں کہ یہ مہر ضرور ادا کردوں گا۔شاید خدا نے ان کی اس وقت کی نیت اور نیک ارادہ کرنے کی وجہ سے بعد میں ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہوں نے دس ہزار روپیہ مہر ادا کر دیا۔مگر لوگ تو ایسی حالت میں مہر باندھتے ہیں کہ وہ خود کنگال ہوتے ہیں اور گھر میں کھانے تک کو کچھ نہیں ہوتا یہاں تک کہ نکاح کے دو جوڑے بھی بننے سے قرض لے کر لاتے ہیں۔مگر مہر دیکھو تو کیا ہو گا تین گاؤں، ایک ہاتھی، اتنے گھوڑے اور اتنے روپے وغیرہ۔میں نے تو خود تو کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا مگر مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی لکھتے ہیں جو میں نے پڑھا ہے کہ مہر میں اتنی مکھیوں کے پر اور اتنے مچھروں کے انڈے بھی شامل ہوتے تھے گویا یہ ان کی بڑائی کا نشان ہوتا ہے اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ ادھر ہماری بیٹی کی شادی ہوئی اور پھر سارا ملک مکھیوں کے پر اور مچھروں کے انڈے جمع کرنے میں لگ جائے گا۔مگر دیکھو رسول کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آتی ہے اور اگر کہتی ہے یا رسول اللہ ا ! میں اپنے آپ کو حضور کے لئے ہبہ کرتی ہوں آپ فرماتے ہیں مجھے تو حاجت نہیں مگر ہم کسی اور نیک مرد سے تمہاری شادی کرا دیں گے۔اسی مجلس میں سے ایک اور شخص اٹھ کر عرض کرتا ہے یا رسول اللہ ! مجھ سے کرا دیجئے۔آپ نے پوچھا، کچھ پاس بھی ہے؟ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ پاس تو کچھ نہیں۔آپ نے کہا لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔معلوم ہوتا ہے وہ صحابی بھی بہت ہی غریب تھا اس نے کہا یا رسول اللہ الله لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔آپ نے کہا اچھا قرآن شریف کی کچھ سورتیں ہی یاد ہیں۔اس نے جواب دیا ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔آپ نے فرمایا چلو قرآن کریم کی تین سورتیں ہی مر میں یاد کرا دیتا۔کے در حقیقت عورت کا مہر اس لئے رکھا گیا ہے کہ بعض ضروریات تو خاوند پوری کر دیتا ہے