خطبات محمود (جلد 3) — Page 470
خطبات محمود جلد سوم گو تصویر بھی بھلی معلوم ہوتی ہے مگر تصویر اور اصل میں کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ایک بہادر شخص جس کے ہاتھ میں خنجر ہو اس کو اگر کسی وقت شیر سے مقابلہ کرنا پڑے تو وہ اپنے خنجر سے شیر کو مار سکتا ہے لیکن اسی شخص کی اگر ایک تصویر ہو اور اس تصویر میں یہ دکھایا گیا ہو کہ اس کے ہاتھ میں خنجر ہے تو وہ کوئی حقیقت نہیں رکھے گی بلکہ اس کو ایک چوہا بھی کتر کر رکھ دے گا۔تو گو تصویر میں حسن اور خوبصورتی ہوتی ہے مگر طاقت اتنی بھی نہیں ہوتی کہ ایک چوہے کا مقابلہ کر سکے اس کے مقابلہ میں جو اصل انسان ہو وہ شیر کو بھی مار سکتا ہے۔تو فرمایا تم اپنی نگاہ ہمیشہ اوپر کی طرف رکھا کرو۔بے شک رشتہ داری تعلقات میں ایک نظام کو قائم رکھنے کی وجہ سے بعض کو افسری ملے گی اور بعض کو ماتحتی مگر تم سمجھ لو کہ اصل افسر خدا ہی ہے اور تمہاری افسری محض دکھاوے کی چیز ہے۔رشیا کا ایک مشہور بادشاہ پیٹر نہ نامی گزرا ہے۔اس کی عادت تھی کہ وہ رعایا کے حالات کی نگرانی کے لئے بھیس بدل کر شہر اور دیہات میں گشت لگایا کرتا۔ایک دفعہ وہ کسی جگہ سے گزر رہا تھا کہ ایک سارجنٹ جو چھٹی پر آیا ہوا تھا اپنے مکان کے دروازے کے آگے کھڑا سگار پی رہا تھا۔گاؤں والے تو سپاہی کو بھی بڑا آدمی سمجھتے ہیں پھر اگر کوئی سارجنٹ ہو جائے تو اسے تو خاص تو قیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔وہ اسی طرح کھڑا تھا کہ بادشاہ نے سوال کیا کہ میاں میں نے فلاں کی طرف جاتا ہے اس طرف کون سا راستہ جاتا ہے۔سارجنٹ یہ بات سن کر بادشاہ کی طرف متوجہ بھی نہ ہوا بلکہ اس نے دوسری طرف اپنا منہ پھیرتے ہوئے انتہائی بے رخی سے کہا " چلے جاؤ سید ھے"۔بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت بری معلوم ہوئی کہ اس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ میری طرف منہ کر کے بات کرتا اور اس نے دریافت کیا کہ کیا آپ فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔اس نے پھر بھی منہ نہ موڑا اور کہنے لگا ہوں" بادشاہ نے کسی معمولی عہدے کا نام لیا اور پوچھا کیا آپ وہ ہیں۔وہ سگار کا کش لگاتے ہوئے نہایت متکبرانہ انداز میں کہنے لگا " اوپر چلو " یعنی تم نے جو درجہ بتایا ہے یہ بہت چھوٹا ہے اس سے اوپر کسی درجے کا نام لو۔اس نے پھر کسی اور عہدے کا نام لیا اور پوچھا کیا آپ وہ ہیں؟ اس نے کہا " اوپر چلو " بادشاہ کہنے لگا کیا آپ کارپورل ہیں وہ کہنے لگا " اوپر چلو" بادشاہ نے پوچھا کیا آپ سارجنٹ ہیں؟ وہ مسکرا کر کہنے لگا ”ہاں تم اب سمجھے کہ میرا درجہ کیا ہے" یہ پوچھ کر بادشاہ آگے چلنے لگا۔تو چونکہ ان باتوں کی وجہ سے اس سارجنٹ کو بھی کچھ دلچسپی ہو گئی تھی اس لئے وہ کہنے لگا میاں کیا تمہارا بھی فوج