خطبات محمود (جلد 3) — Page 471
ނ Et جلد سوم سے تعلق ہے۔بادشاہ کہنے لگا ہاں میرا بھی فوج سے تعلق ہے۔وہ کہنے لگا کیا کار پوری ہو۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو۔پھر اس نے کہا کیا سارجنٹ ہیں۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو اس پر وہ کچھ مودب سا ہو گیا اور کہنے لگا کیا آپ سیکنڈ لیفٹیننٹ ہیں۔بادشاہ نے کہا " اوپر چلو“ کہنے لگا کیا لیفٹینٹ ہیں۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو " کہنے لگا کیا آپ کیپٹن ہیں۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو " وہ کہنے لگا کیا آپ میجر ہیں اور یہ کہتے ہوئے وہ بہت ہی خوف زدہ ہو گیا۔بادشاہ نے کہا "او پر چلو وہ کہنے لگا کیا آپ لیفٹیننٹ کرنل ہیں۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو وہ کہنے لگا کیا آپ کرنیل ہیں۔بادشاہ نے کہا " اوپر چلو پھر تو وہ بہت ہی گھبرایا اور کہنے لگا کیا آپ جرنیل ہیں۔بادشاہ نے کہا اوپر چلو"۔وہ کہنے لگا کیا آپ کمانڈر انچیف ہیں۔بادشاہ نے کہا " اوپر چلو“ یہ سنتے ہی اس کے پاؤں لڑکھڑائے اور حضور بادشاہ سلامت کہتے ہوئے اس کے قدموں میں گر گیا۔یہی انسانی حالت ہوتی ہے وہ ہمیشہ نچلوں کو دیکھتا اور دیکھ کر اپنی حیثیت کا اندازہ لگاتا اور کہتا ہے میں بھی کچھ بن St گیا ہوں۔اللہ تعالی کہتا ہے تم کدھر دیکھتے ہو اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً ادھر دیکھو تا تم کو اپنا مقام یاد رہے اور تمہیں معلوم ہو کہ تمہاری کیا حیثیت ہے۔تو نکاح کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے اس آیت کا انتخاب کر کے ایک لطیف وعظ کیا ہے اور مرد کو بتایا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا سلوک کرے حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے ملک میں جب میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوتا ہے تو مرد ہمیشہ عورت سے کہا کرتا ہے کہ ”توں ہیں کی پیر دی جتی ہی تے ہیں۔اک لاہی تے دوجی پالٹی " یعنی تمہاری حیثیت پاؤں کی جوتی سے زیادہ نہیں جو ایک اتار کر دوسری پہن لی جاتی ہے۔ایسے موقع پر کیا لطیف نصیحت کی ہے۔فرماتا ہے تم اب بادشاہ تو بننے لگے ہو مگر میاں ذرا اوپر بھی دیکھ لیا کرنا۔خود رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْنُولٍ عَنْ رَعَيْتِه كے کہ ہر ایک تم میں سے بادشاہ ہے اور ہر ایک سے اپنی اپنی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔گویا بادشاہ کہہ کر اسلام نے اس کا حوصلہ بڑھا دیا اور اسے بھی یہ خیال آنے لگ گیا کہ میں کچھ ہوں۔مگر كُتُكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعَيْتِهِ کہہ کر پھر اسے اس کے اصل مقام پر لے آیا اور بتا دیا کہ تم پر ذمہ داریاں بھی بہت ہیں اور اوپر کا بادشاہ تم سے سوال کرے گا کہ تم نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک پورا کیا؟ گویا ایک دم انسان کا دماغ بلند کر کے اسلام اسے اوپر بھی لے گیا اور پھر -