خطبات محمود (جلد 3) — Page 469
خطبات محمود ہے۔جلد سوم میں خدا کا نائب ہو گیا حالانکہ وہ خدا کا نائب نہیں بلکہ شیطان کا نائب ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا تجزیہ کرنے والا شیطان ہے اور شیطان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ استکبر وہ متکبر ہوتا حالانکہ استکبار مومن بھی کرتا ہے مگر مومن جہاں ایک طرف استکبار کرتا ہے وہاں دوسری طرف سجدہ میں اپنا سر بھی جھکا دیتا ہے۔پس مومن کے استکبار اور شیطان کے استکبار میں فرق یہی ہے کہ مئومن تجزیہ نہیں کرتا یعنی وہ تمام صفات کا مظہر بنتا ہے مگر شیطان صفات الیہ کا تجزیہ کر کے اس کی صرف ان صفات کو لے لیتا ہے جو کبریائی اور بڑائی پر دلالت کرتی ہیں اور باقی سب کو نظر انداز کر دیتا ہے۔آخر جب ہم کہتے ہیں تَخَلَقُوا بِاخْلَاقِ الله شو کہ اے لوگو! اللہ تعالٰی کی صفات اپنے اندر پیدا کرو تو کیا ہم ساتھ ہی یہ بھی نہیں کہہ رہے ہوتے کہ تم متکبر بھی بنو کیونکہ متکبر خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہم شیطان کو استکبار کی وجہ سے شیطان کہتے ہیں مگر مومن کو نہیں۔بلکہ اگر مومن متکبر نہ ہو تو ہم کہیں گے کہ وہ صفات الہیہ کا کامل مظہر نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مومن تمام صفات کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے وہ ایک موقع پر اگر بڑائی کا اظہار کرتا ہے تو دوسرے موقع پر تذلل اختیار کرتا اور خدا تعالٰی کی صفات ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت وغیرہ جو خدمت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ان پر بھی عمل کر کے دکھاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فرشتہ بھی بعض جگہ متکبر ہوتا ہے۔چنانچہ جہاں شیطان کی اطاعت کا سوال آتا ہے وہاں وہ انکار کر دیتا ہے مگر جہاں اللہ تعالٰی کی اطاعت کا سوال ہو وہاں انتہائی عاجزی سے جھک جاتا ہے۔پس وہ شخص جو تمام صفات الہیہ کا مظہر بنتا ہے رہی ہے جو حقیقی معنوں میں مومن کہلا سکتا ہے مگر جو ایک حصہ کو تسلیم کرتا اور ایک حصہ کا انکار کرتا ہے شیطان ہوتا ہے۔محض غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً۔دیکھو اب نکاح کے بعد تمہاری ایک دوسرے سے رشتہ داریاں ہوں گی اور تم ایک دوسرے کے رقیب بننا چاہو گے اور کہو گے کہ فلاں نے یہ کیوں کہا اور فلاں نے وہ کیوں کہا اور تم اس بات کو بھول جاؤ گے کہ تم م ایک انعکاس اور تصویر ہو اور اصل نگران تم نہیں بلکہ اصل نگران خدا ہے۔ایک چھوٹا بچہ جب اپنے ہمجولیوں کے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے وہ اپنی بڑائی کے بڑے دعوئی کرتا ہے مگر جونہی کسی بڑے آدمی کو دیکھتا ہے سہم کر خاموش ہو جاتا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم بھی اس بڑے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا کرو بے شک تم رقیب ہو مگر تم عکسی رقیب ہو اور