خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 333

خطبات محمود ۳۳ جلد سوم کرنے لگ جاتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے ہمیشہ مودب رہتے۔مجھے ان کا ایک لطیفہ یاد ہے۔یہاں ایک افغان مہاجر تھے جو مسجد میں اذان دیا کرتے تھے ان کی آواز بھاری تھی ایک روز قاضی صاحب نے اس کو اپنے پاس محبت سے بٹھا لیا۔وہ کہتا تھا میں نے سمجھا مجھے کچھ انعام دینے لگے ہیں مگر پاس بٹھانے کے بعد کہا دیکھو جس وقت تم اذان کہتے ہو اس وقت خدا اور اس کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔آج کل بھی ہماری دونوں مسجدوں میں اس قسم کے مئوذن ہیں کہ ان کو مئوذن نہیں کہہ سکتے۔اس مسجد کے مسئوذن تو اس طرح اذان دیتے ہیں جیسے کوئی بند ٹوکرے میں بیٹھ کر بولتا ہے۔اذان دیتا بڑا ثواب کا کام ہے اور بڑے بڑے آدمی اذان دیا کرتے تھے۔حضرت عمر نے کہا تھا اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو اذان دیا کرتا ہے یہاں مولوی عبد الکریم صاحب بھی اذان دیا کرتے تھے ہم بھی مسوزن تھے۔ہم چند آدمی بڑے شوق سے اذان دیتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات ایک نے اذان کہہ دی ہوتی تو دوسرا بھی کہہ دیتا اس طرح کبھی کبھی اس مسجد میں نماز کے لئے تین تین اذانیں ہو جائیں۔مجھے یاد ہے مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک دفعہ اس پر بہت ڈانٹا۔میں نے مولوی عبد ا کریم صاحب کو اور حضرت خلیفہ اول کو بھی اذان کہتے دیکھا ہے مگر اب سمجھا جاتا ہے کہ جو دریاں وغیرہ جھاڑنے پر مقرر ہو وہی اذان بھی دے دیا کرے۔اس مسجد مبارک کی اذان تو بعض دفعہ دکاندار بھی نہیں سنتے۔صبح کے وقت جبکہ لوگ ابھی خواب کی حالت میں ہوتے ہیں ایسی اذان کچھ معنے نہیں رکھتی۔میں اگرچہ پاس ہی سوتا ہوں بعض اوقات میں بھی بمشکل جاگتا ہوں۔مجھے خیال آتا ہے کہ اگر قاضی امیر حسین صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو ایسے مئوذن کو کتنی لعنتیں ملتیں۔قاضی صاحب میں جوش تھا مگر اپنی غلطی معلوم ہونے پر دب بھی جاتے تھے۔ایک دفعہ میرے زمانہ خلافت میں سکول والوں نے ان کے لڑکے کو مارا۔وہ رات کو آئے اور زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔میں باہر آیا اور پوچھا قاضی صاحب خیر تو ہے؟ بولے خیر کیا ہے اگر بھائی عبدالرحیم صاحب پاس نہ ہوتے تو ہیڈ ماسٹر نے میرے لڑکے کو بالکل مار ہی دیا تھا۔میں نے کہا آخر وہ لڑکا ہے کہاں اور کس حال میں ہے کہنے لگے میرے پاس تو وہ آیا نہیں وہ تو بھاگ گیا ہے۔میں نے پھر کہا پھر خیر بار تو نہیں دیا زندہ ہے۔وہ بھاگ جو گیا ہے تو اسے بہت مار نہیں پڑی ہوگی مگر آپ کو کس نے کہا کہ اسے مار ڈالا ہے۔بولے ایک لڑکے نے بتایا ہے۔میں نے کہا لڑ کے بعض دفعہ جھوٹ بھی بول دیتے ہیں۔کہنے لگے اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت