خطبات محمود (جلد 3) — Page 332
خطبات محمود جلد سو اختیار کرلی اور تیز ہو گئی۔زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عمرہ تیز ہو گئے اور جوش میں انہوں نے حضرت ابو بکر پر ہاتھ ڈالا مارنے کو نہیں سمجھانے کو اس پر حضرت ابو بکر غصہ میں آنحضرت کے پاس چلے گئے۔اتنے میں حضرت عمر کو بھی خیال آیا کہ میں نے غلطی کی اگر رسول کریم ال سنیں گے تو ناراض ہوں گے وہ بھی رسول کریم اے کے پاس چلے آئے اور بات بیان کر دی۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم الایا ان کے چہرے پر غضب کے آثار ظاہر ہو گئے اور آپ نے فرمایا کیا تم لوگ مجھے اور ابو بکر کو نہیں چھوڑتے۔جس وقت ساری دنیا میری مخالفت کر رہی تھی اس وقت اس نے میرا ساتھ دیا۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ای کہا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ابو بکر کو میرے ساتھ رکھ۔سے قرآن کریم اس معیت کی شہادت اِنَّ اللهَ مَعَنا - سے کے الفاظ میں دیتا ہے۔یہ معیت بوجہ سابق بالایمان ہونے کے تھی۔پھر ان سے اتر کر دیگر صحابہ حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی و غیر ہم تھے۔وہ لوگ بمنزلہ ایسی زمین کے تھے جن میں اسلام کا بیج بویا گیا اور بعد میں آنے والے اس وقت آئے۔جب پھل آگیا۔السابقون الاولون وہی لوگ تھے جو اس وقت آئے جب اسلام کا پودا لگایا جا رہا تھا اور جب ساری دنیا اسے اکھیڑنے کے درپے تھی گو نہیں کہہ سکتے کہ بعد میں آنے والے پھل کھانے کو آئے مگر آئے اس وقت جب پھل آچکا تھا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا ہے۔ان پر چند لوگ اس وقت ایمان لائے جب آپ کا ساتھ دینا ہلاکت تھا ایسے ہی لوگ ابو بکر، عمر، عثمان، علی کے مثیل تھے۔انہوں نے اپنے قلوب کو پیش کیا کہ ان میں احمدیت کا بیج بویا جائے اور احمدیت کا پودا نشو و نما پائے پھر اور لوگ آئے مگر وہ لوگ پہلے لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے سوائے اس کے کہ وہ تقویٰ میں اس قدر ترقی کر جائیں کہ ان کے دل کا غم ان کے بعد زمانی سے بھاری ہو جائے۔پہلے آنے والے لوگوں میں سے ایک سید قاضی امیر حسین صاحب بھی تھے وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی الفاظ نبی اور محدث وغیرہ کی تشریح کر رہے تھے کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں۔دوسرے لوگوں سے بھی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی کہتے۔پہلے پہل وہ قادیان میں سات روپیہ ماہور پر آئے اب تو اس تنخواہ پر چپڑاسی بھی نہیں ملتا ان کی طبیعت بہت تیز تھی جلد غصہ آجاتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے سامنے تو غصہ کا اظہار بھی