خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 334

خطبات محمود ۳۳ چند موم تھی۔آپ خلیفہ ہیں اور خلیفہ کی بڑی ذمہ داریاں ہیں آپ انتظام کریں۔میں نے کہا اچھا میں بھائی عبدالرحیم صاحب کو بلواتا ہوں اور تحقیق کرتا ہوں۔چنانچہ رات کو ہی بھائی عبدالرحیم صاحب کو بلوایا گیا جب وہ آئے تو ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا ہیڈ ماسٹر صاحب نے لڑکے کو مار دیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسے تین درجن بید کی سزا دی تھی۔ڈیڑھ درجن لگ چکے تھے۔اس وقت تک تو وہ مسکراتا رہا۔پھر میں نے کہا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسے چھوڑ دیا۔جب یہ سنا تو قاضی صاحب رو پڑے اور کہا مجھے کیا معلوم تھا مجھے تو ایک لڑکے نے بتایا تھا۔الغرض قاضی صاحب عجیب رنگ کے آدمی تھے۔ان کے بھائی سید غلام حسین صاحب بھی جن کی لڑکی کا آج نکاح ہے پرانے احمدی ہیں میں نے قاضی صاحب کا ذکر اس غرض سے کیا ہے کہ ان لوگوں میں عشقیہ رنگ تھا مگر آج کل کے نوجوانوں میں محض ایک فلسفیانہ رنگ ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی انہی لوگوں میں سے تھے گرمیوں کے دنوں میں مسجد اقصیٰ سے پانی منگواتے۔مٹی کے کچے لوٹے میں پانی لایا جاتا وہ مسجد مبارک میں بیٹھے ہوتے وہ بڑھ کر آگے آتے اور کہتے جب میرے لئے پانی آتا ہے تو میں آگے بڑھ کر اس کے اور قریب ہو جاتا ہوں اور پھر پانی لے کر بڑے زور سے کہتے الحمد للہ۔یہی وہ رنگ تھا جو ان کو خصوصیت دیتا ہے۔ہم کو لڑکپن میں اس بات کا بڑا لطف آتا اور ہم بھی اسی طرح پانی پیتے اور الحمدللہ کہتے۔ایمان عشق سے پیدا ہوتا ہے اس عشق سے جو سوزو گداز پیدا کرے اور ایک آگ لگا دے۔جس طرح ایک بچہ کھلونا لے کر سمجھتا ہے کہ سب دنیا اسے مل گئی۔اسی طرح مومن بھی ایمان حاصل ہونے پر اور سب چیزوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔یہ چیز ہے جو دنیا کو متاثر کرتی ہے خالی باتیں بنانے والا آدمی کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اور پرانے صحابی منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم تھے جو کپور تھلہ میں رہتے تھے انہوں نے قصہ سنایا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا میں کپور تھلہ آؤں گا۔جس دن توقع تھی اس دن تو آپ تشریف نہ لائے مگر دوسرے دن بلا اطلاع تشریف لے آئے۔ایک شخص نے جو منشی صاحب کا سخت مخالف تھا ان کو اطلاع دی کہ مرزا صاحب آگئے ہیں۔ان دنوں کپور تھلہ ریل نہیں جاتی تھی ٹانگے یکے وغیرہ جاتے تھے بتانے والے نے کہا میں نے مرزا صاحب کو آتے دیکھا ہے۔منشی صاحب کہتے ہیں میں یہ سن کر ننگے سر اور ننگے پاؤں جس طرح بیٹھا تھا دوڑ پڑا کہ جلدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام