خطبات محمود (جلد 3) — Page 302
خطبات محمود ٣٠٢ جلد سوم خوشی و انبساط نہیں بلکہ جھگڑا پیدا ہو گا۔پس آئندہ ہماری جماعت میں اس قسم کی باتیں قطعاً نہیں ہونی چاہئیں۔پہلا اعلان تو ابھی میں یہی کرتا ہوں کہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے زیو ریا کپڑے کے لئے اشارہ بھی تحریک کی گئی تو میں ایسے نکاح کا اعلان ہرگز نہیں کروں گا بشرطیکہ مجھے علم ہو جائے۔ہاں اگر علم نہ ہوا تو اور بات ہے۔اگر اس سے بھی یہ سلسلہ بند نہ ہوا اور رسم جاری رہی تو اسے روکنے کے لئے اور کوئی مناسب قدم اٹھاؤں گا۔مہر شریعت کے مطابق ضرور رکھو اور اتنا رکھو جو خاوند کو تکلیف میں نہ ڈالے۔اس کے بعد اس کی مرضی پر چھوڑ دو کہ بطور تحفہ جو کچھ مناسب سمجھے خواہ زیور اور کپڑے ہزاروں لاکھوں کے لے آئے اور خواہ ایک پیسہ کے بھی نہ لائے۔اگر اسے محبت ہوگی تو وہ خود بخود بطور تحفہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ لائے گا۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے تحائف دینے سے محبت بڑھتی ہے کہ اور دنیا میں کون ایسا عظمند ہے جو یہ نہ چاہے کہ بیوی سے محبت ہو۔اگر دونوں میں محبت نہ ہوگی تو اسے خود کس طرح آرام کی توقع ہو سکتی ہے جو خوشی سے لانے کے لئے تیار نہیں وہ بخیل ہے۔اور بخیل پر جبر کر کے اس سے مال خرچ کرایا جائے تو وہ اور زیادہ رنجیدہ ہو جاتا ہے۔پس جسے توفیق اور استطاعت ہے اور ساتھ شوق بھی وہ خود کچھ نہ کچھ لائے گا اور جس کے پاس تو ہے مگر شوق نہیں اسے مجبور کر کے کچھ لینا فساد کی بنیاد ڈالنا ہے پھر جسے توفیق اور استطاعت ہی نہیں اور جس کے پاس مال نہیں اسے خواہ مخواہ مقروض کرنا اور تکلیف میں ڈالنا نادانی ہے اس سے اپنی لڑکی کو بھی آرام نہیں مل سکے گا۔ے فریقین کا الفضل سے تعین نہیں ہو سکا۔ه موطا امام مالک کتاب الجامع باب ما جاء في المهاجرة الفضل ۷۔اپریل ۱۹۳۱ء صفحہ ۵)