خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 179

خطبات محمود 169 جلد موم کیا آج تم خوشی کر رہے ہو کل ماتم تو نہ کرو گے آج اگر سودی روپیہ لے کر کوئی خوشی مناتا ہے تو کل یقینا اسے ماتم کرنا پڑے گا جب کہ سب کچھ قرض خواہ کی نظر ہو جائے گا۔اور پھر بھی اس کا قرضہ ادا نہ ہوگا۔ہماری جماعت میں نکاح ہوتے ہیں جن میں بظاہر خوشی معلوم نہیں ہوتی۔مثلاً آج ہی دیکھ لو یہاں نہ لڑکے والے ہیں نہ لڑکی والے دونوں کی طرف سے اجازت آگئی ہے اور یہاں نکاح پڑھا جا رہا ہے۔ہمارے ملک کے لحاظ سے تو گویا یہ شادی نہیں مگروہ جو خدا کے لئے دنیا داری کی باتوں کو چھوڑتے ہیں ان کے لئے ایسے نکاح ہمیشہ کے لئے شادی ہو جاتے ہیں اور وہ جو قرض لیتا اور باجے بجوا تا آتش بازی چھڑاتا اور دعوتیں کرتا ہے اسے شادی کے دن خوشی ہو تو ہو مگر شادی کے ایک ماہ بعد جب بنیا آکر مانگتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔قرض بڑھتا جاتا ہے زمین اور مکان قرق ہو جاتے ہیں تو قرض لے کر شادی پر خرچ کرنے والا خوشی کے شادیانے نہیں بھجواتا بلکہ ماتم اور بربادی کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔لیکن اسلامی احکام پر عمل کرنے سے انسان ان سب خرابیوں سے بچ سکتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔لڑکی کی شادی ہے کچھ مدد دیجئے۔فرماتے تھے مجھے تعجب ہوا کہ اسلامی نکاح کے لئے خرچ کی کون سی ضرورت ہے جتنا خرچ کر کے یہ شخص یہاں آیا ہے اس میں نکاح ہو سکتا تھا۔میں نے کہا جتنی رقم رسول کریم ﷺ نے فاطمہ کے نکاح پر خرچ کی تھی اتنی میں آپ کو دے دیتا ہوں۔اس پر کچھ دیر چپ رہنے کے بعد کہنے لگا کیا آپ میری ناک کاٹنا چاہتے ہیں؟ مولوی صاحب نے فرمایا رسول کریم کی ناک نہ کئی تو تمہاری کیونکرکٹ جائے گی۔در حقیقت اس طرح ناک نہیں کٹتی ہاں جو سوال کر کے خرچ کرتا یا قرض لے کر شادی کرتا ہے اس کی ناک خود کٹ جاتی ہے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے سوال کرنے سے منع فرمایا ہے کہ اور قرض سے انسان پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔شادی کے دن تو لوگ جمع ہو کر دعوت کھالیں گے لیکن جب بنیا مانگے گا تو نہ صرف کوئی مدد نہ کریں گے بلکہ الٹا کہیں گے اس نے کیوں ایسی بیوقوفی کی تھی۔اگر وہ شادی کی پر کچھ نہ کرتا تو اس وقت خواہ کچھ کہہ لیتے لیکن اگر جائداد تباہ نہ ہوتی تو سب لوگ بعد میں اس کی تعریف کرنے لگ جاتے کیونکہ اس کے پاس روپیہ ہوتا۔تو اسلامی احکام کی خلاف ورزی سے لوگ تباہ ہوتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم ﷺ نے