خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 178

IZA جلد سوم خاندان سے جدا ہونا پڑے گا اور کئی قسم کی قباحتیں پیدا ہوں گی۔اسی طرح یہ ہدایت کی گئی ہے کہ استوار قول سے شادی کا معاملہ طے ہو۔دھوکا، فریب یا کوئی اور ناجائز خیال نہ ہو۔جب اس طرح شادی ہوگی تو کوئی فساد نہ ہو گا۔فساد کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ اس لئے لڑکی لے لیتے ہیں کہ اس کے خاندان کو دکھ دیں اور لڑکی کو بیاہ کر خراب کریں مگر قرآن کریم کہتا ہے۔قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا - لے اس پر عمل کرنے والا کبھی ایسی بات نہیں کرے گا۔یا بعض دفعہ جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں مثلاً لڑکے والے کہہ دیتے ہیں اتنا زیور اور اتنے کپڑے دیں گے حالانکہ جب لاتے ہیں تو دوسروں کے مانگ کر لاتے ہیں اسی طرح لڑکی والے کہتے ہیں اتنا جہیز دیں گے اور یہ اس لئے کہتے ہیں کہ لڑکی اچھی جگہ لگ جائے مگر جب وقت آتا ہے تو اپنے وعدہ کو پورا نہیں کرتے اس سے فساد شروع ہو جاتے ہیں۔نگر اسلام کہتا ہے جو بات کہو پکی اور بچی کہو۔اس طرح اس قسم کے دھوکوں سے روک دیا۔یا لڑکے والے کہتے ہیں لڑکا لائق ہے مگر وہ لائق نہیں ہوتا۔یا لڑکی والے کہتے ہیں لڑکی خوبصورت اور سلیقہ شعار ہے حالانکہ نہیں ہوتی اس قسم کی باتوں سے بھی روک دیا۔غرض اس حکم کے ماتحت فساد کی ساری وجوہات دور ہو جاتی ہے۔پھر فساد اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آئندہ کے متعلق غور نہیں کیا جاتا۔مرد یہ دیکھتا ہے کہ عورت خوبصورت ہو آگے خواہ کچھ ہو اس کی پرواہ نہیں کرتا۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - سے شادی کرتے وقت آئندہ کے نتیجہ کو سوچ لو اس حکم کو مد نظر رکھنے والے کبھی عورت کے صرف حسن و جمال کی وجہ سے شادی نہیں کرے گا کیونکہ وہ مجھے گا کہ یہ عارضی ہے اور ہمیشہ رہنے اور کام آنے والی چیز تقویٰ اور پر ہیز گاری ہے اس لئے اس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔غرض ان آیات میں جتنے احکام شریعت نے دیئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے فساد پیدا نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ان آیات میں ان رسوم سے بھی روک دیا گیا ہے جو شادی کے موقع پر کی جاتی ہے۔مثلا لوگ قرض لے کر اسراف کرتے ہیں اور اس طرح تباہ ہو جاتے ہیں۔خدا تعالی فرماتا ہے۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - آج تم روپیہ خرچ کر رہے ہو تم یہ دیکھو کہ کل اس کا کیا اثر ہو گا۔اس بات کو مد نظر رکھنے والا کبھی سودی روپیہ لے کر شادی پر نہیں لگائے گا کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے یہ نہ دیکھو آج تمہارے ہاں شادی ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کل پرسوں کیا ہو گا۔