خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 396

خطبات محمود جلد سوم کہ اس پر عمل کرنے والوں کی کوتاہی ہے۔کونسا اسلامی حکم ایسا ہے جس پر یورپ والوں نے حملہ نہیں کیا اور اس پر اعتراض نہیں گئے۔انہوں نے حملے کئے مگر منہ کی کھائی پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان سے ڈر کر اسلام کے کسی حکم کو چھپائیں یا اسے ناقابل عمل سمجھیں۔میں ذکر کر رہا تھا کہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے اس آیت کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ان کی طبیعت میں مذاق تھا وہ عموماً بات کو واضح کرانے کے لئے اعتراض کر دیتے اور ہم عموماً اس مسجد کی چھت پر کٹہرے میں جو سیڑھیوں کے ساتھ ہے کھڑے کھڑے گفتگو کیا کرتے تھے۔وہ اعتراض کرتے اور میں جواب دیتا۔آخر ہماری گفتگو کا خاتمہ ان کے اس فقرہ پر ہو تا کہ اچھا آپ اس بات کا جو مفہوم سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں۔اور میں کہتا وقت آنے پر میں اس پر عمل کر کے دکھاؤں گا۔تو شریعت نے ہمارے لئے تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا ہے بلکہ قرآن کریم میں جہاں شادی کا ذکر آتا ہے وہاں ایک سے زیادہ شادیوں کو ایک رنگ میں ترجیح دی ہے۔آنحضرت نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں مگر آپ نے کبھی کوئی وجہ پیش نہیں کی یہ تو ہم آج وجوہات پیش کرتے ہیں جبکہ نادان آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتے ہیں ورنہ ہمارے لئے ہیں حکمت سب سے بڑی ہے کہ ہماری شریعت میں اس کا حکم ہے۔یوں بھی لوگ علمتیں نکال لیتے ہیں لیکن وہ ضمنی چیز ہے اصل مقصود نہیں۔شادی سے اصل مقصود تو یہ ہے کہ مومنوں میں زیادتی ہو اور جب تعدد ازدواج کے ذریعہ ہم نسل میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کی پرورش کا سامان بھی مہیا ہوتا ہے تو اس طرح امت محمدیہ بڑھتی ہے۔اس طرح اگر ہم دس نسلیں یا ہیں نسلیں بڑھاتے ہیں اور ان کے لئے سامان بھی مہیا ہوتا ہے تو یہ نسلیں امت محمدیہ کو ہی بڑھاتی ہیں اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا - تزوجوا الودود الولود سے یعنی شادیاں کرو ان عورتوں سے جو محبت کرنے والی ہوں اور بہت بچے جننے والی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ہماری شادیوں کی تجویز فرمائی تو سب سے پہلے یہ سوال کرتے کہ فلاں صاحب کے ہاں کتنی اولاد ہے، وہ کتنے بھائی ہیں، آگے ان کی کتنی اولاد ہے؟ مجھے یاد ہے کہ جس جگہ میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اس کے متعلق