خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ جلد سوم - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے دریافت فرمایا کہ اس خاندان کی کس قدر اولاد ہے اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ سات لڑکے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اور تمام باتوں پر غور کرنے سے پہلے فرمانے لگے کہ بہت اچھا ہے۔یہیں شادی کی جائے۔میری اور میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تجویز اکٹھی ہی ہوئی تھی ہم دونوں کی شادی کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی دریافت فرمایا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں کتنی اولاد ہے کتنے لڑکے ہیں، کتنے بھائی ہیں تو جہاں آپ نے اور باتوں کو دیکھا وہاں ولو دا کو مقدم رکھا۔اب بھی بعض لوگ جو مجھ سے مشورہ لیتے ہیں میں ان کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ یہ دیکھو جہاں رشتے تجویز ہوئے ہیں ان کے ہاں کتنی اولاد ہے۔پس جب شادی کا ایک اہم مقصد اولاد پیدا کرنا ہے اور تعدد ازدواج سے اولاد میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر اس پر اعتراض کیا ہو سکتا ہے۔اصل چیز جس پر زور دینے کی ضرورت ہے وہ انصاف ہے۔اگر تعدد ازدواج میں انصاف کو قائم رکھا جائے اور کوئی مستثنیات مجبوری کی نہ ہوں تو اکثریت بے شک ایک سے زیادہ شادیاں کریں۔لوگ کہتے ہیں کہ اتنی لڑکیاں کہاں سے آئیں گی مگر ان کا یہ خیال غلط ہے اگر اپنے ہاں لڑکیاں کم بھی ہو جائیں تو اور ملکوں سے آنے لگ جاتی ہیں۔کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ دو دو سال تک لوگ امور عامہ میں خط لکھتے ہیں اور رشتہ تلاش کرتے رہتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ کوئی رشتہ ملتا نہیں لیکن اس دوران میں بعض دوسرے لوگ آکر رشتہ کا انتظام کر لیتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حسن انتظام نہیں۔ایک طرف محکمہ سستی کرتا ہے اور دوسری طرف خود لوگ غفلت کرتے ہیں ورنہ رشتے موجود ہوتے ہیں جن کا پتہ نہیں لگایا جاتا۔میں نے محکمہ والوں کو ہدایت کی ہوئی ہے کہ بیت المال کے انسپکٹروں اور دعوت و تبلیغ کے مبلغین کے ذریعہ جو جگہ جگہ دورہ کرتے رہتے ہیں یہ کام نہایت سہولت سے ہو سکتا ہے۔اگر اس قسم کی مشکلات موجود ہیں تو یہ محض انتظام کا نقص ہے ورنہ یہ قانون قدرت ہے اور اس کے لئے خود بخود ایسے سامان مہیا ہو جاتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کا توازن درست رہتا ہے۔جس صورت میں توازن درست نہیں رہتا وہ عورتوں کی کثرت ہوتی ہے اس کا علاج بھی اسلام نے ہی کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کی جائیں۔حال ہی میں ہمارے ہنگری کے مبلغ عورتوں کے ایک مجمع میں کثرت ازدواج کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے