خطبات محمود (جلد 3) — Page 395
خطبات محمود ۳۹۵ جلد موم ہیں جن پر حج فرض ہوتا ہے لیکن وہ حج کو نہیں جاتے اور جو حج کو جاتے ہیں ان میں سے عموماً صرف دو فی صدی پر حج فرض ہوتا ہے۔اگر وہ لوگ جن پر حج فرض ہے حج کو جائیں اور لوگوں کی اوسط عمر ۳۰ سال رکھی جائے تو تیس سال میں سے پندرہ سال بچپن اور بڑھاپے میں گزری جاتے ہیں باقی پندرہ سالوں کو اگر کاموں پر تقسیم کیا جائے تو پانچ چھ سال کا عرصہ ہوتا ہے جس میں وہ حج کو جاسکتے ہیں اگر وہ لوگ جن پر حج فرض ہوتا ہے حج کو جائیں اور ان مسلمانوں کو منہا کر دیا جائے جو یونسی مانگتے ہوئے اور پھرتے پھراتے چلے جاتے ہیں تو جو حاجیوں کی تعداد اب جاتی ہے وہی پھر جائے۔اگر ملک کی مالی حالت اچھی ہو جائے اور فرض کرو (۱۰۰) سو میں سے ایک شخص حج کو جانے لگے تو آٹھ کروڑ میں سے آٹھ لاکھ جائے گا اور اگر ایک نسل کا زمانہ پچاس سال رکھا جائے تو پچاس سال میں آٹھ لاکھ جائے گا مگر ظاہر ہے کہ (۱۰۰) سو میں سے ایک کے حج کو جانے کی وجہ سے حج کے حکم میں کمزوری واقع نہیں ہو جاتی۔بوجہ اس کے کہ مستثنیات زیادہ ہیں۔حکم کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ مستثنیات کم ہوں لوگ محض مستثنیات کی اکثریت کو دیکھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ یہ کوئی حکم نہیں یا یہ کوئی نیکی نہیں یہ تو مرجع چیز نہیں جیسا کہ میں نے حج کی مثال دی ہے وہی آج کل جہاد کی مثال ہے۔تلوار کے ساتھ جہاد کا حکم آج کل بالکل اُڑ گیا ہے جن لوگوں کے ہاتھ میں تلواریں تھیں انہوں نے تلواریں پھینک دی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جہاد کا حکم ہمیشہ کے لئے منسوخ ہو گیا ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ یورپ کے اعتراضات سے لوگ گھبراتے ہیں اور تعدد ازدواج کے بارے میں تو معترضین کو خصوصاً عورتوں سے مدد مل جاتی ہے۔غیر تو غیر ہماری جماعت میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں خود قادیان میں ایسی مثالیں موجود ہیں لوگ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہیں، بغل گیر ہوتے ہیں، تمام امور میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔لیکن اس طرف نظر نہیں کرتے کہ ایک شخص دو بیویوں میں انصاف نہ کرتا ہوا نیکی کو چھوڑ کر جنم کے راستے پر جا رہا ہے اور اسے اصلاح کی طرف توجہ نہیں دلاتے۔اگر عورتوں سے نا انصافی کے متعلق عورتوں کی زبان بند رہے تو تعدد ازدواج کے مخالفین کی مخالفت خود بخود جاتی رہے۔اور میں سمجھتا ہوں آدھا حملہ دشمن کا باطل ہو جائے بلکہ نوے فی صدی حملہ جاتا رہے۔لیکن جب تک عورت فریاد کرتی رہے اور وہ مظلوم سمجھی جائے اس وقت تک تعدد ازدواج کی مخالفت کو دبانا مشکل ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ تعدد ازدواج کی اجازت میں نقص ہے بلکہ یہ ہیں