خطبات محمود (جلد 3) — Page 390
خطبات ٣٩٠ جلد سوم ساپر نے ہجوم کو روکنے کے لئے اپنے کوڑے کو حرکت دی تاکہ ہجوم کو پیچھے بنائے اتفاقاً وہی پٹھان وہاں موجود تھا اس نے جب وزیر اعظم کو کو ڑا ہلاتے دیکھا تو اسے غیرت آئی اس نے چاقو نکال کر اس پر حملہ کر دیا۔ممکن تھا اس نے وہ چاقو حملہ کی نیت سے نکالا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے ڈرانے کے لئے نکالا ہو پھر یہ بھی ممکن تھا کہ وہ حملہ کرتا اور صرف زخم لگ جاتا وہ مرتا نہ مگر اس نے اس زور سے ہاتھ مارا کہ چاقو پرائم منسٹر کے پیٹ میں لگ گیا جس کی وجہ سے انتڑیاں باہر آگئیں اس وقت کسی منچلے نے کہا یہ دیکھو تمہارا خدا پڑا ہے۔تو انسانی تدابیر اور انسانی آرزو میں کسی رنگ میں بھی مکمل نہیں ہوتیں۔مکمل تدبیریں صرف اللہ تعالی ہی کی ذات کی ہوتی ہیں یا پھر اللہ تعالٰی کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے بعد انسانی تدبیرس کامیاب ہو جاتی ہیں۔پس ہر معاملہ میں خواہ چھوٹا ہو یا بڑا خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اسی پر ہی تدابیر کی کامیابی کا انحصار رکھنا چاہئے۔جب انسان اپنی تدابیر کو اللہ تعالی کی تقدیر پر مبنی کر دے تو تدبیر تقدیر کی شکل اختیار کر لیتی ہے یعنی جو تدابیر اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت ہوتی ہیں وہ تدبیریں نہیں رہتیں بلکہ تقدیریں بن جاتی ہیں۔پس مومن خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جو تدبیر کرتا ہے اس کی تدبیر تقدیر سے جدا نہیں ہوتی۔ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انسان اپنی ذات پر اتکال نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر اتکال کرے اور اس کے فضل اور رحم کو مد نظر رکھے انسان کا جب اللہ تعالیٰ پر اتکال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ماتحت وہ آجاتا ہے یعنی اس کا رحم انسان کا سہارا بن جاتا ہے تو اس وقت انسانی تدبیر تقدیر کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور وہ سب کمیاں جو انسانی تدبیر میں ممکن ہو سکتی ہیں پوری ہو جاتی ہیں۔جس طرح ایک شاگرد اپنی لکھی ہوئی تختی جب استاد کے پاس لے جاتا ہے تو استاد اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔اسی طرح انسان اپنی لکھی ہوئی تختی یعنی تدبیر خدا تعالیٰ کے حضور لے جاتا ہے اور اللہ تعالی اس کی اصلاح کر دیتا ہے اصلاح کر دینے کے بعد وہ تدبیر کی سختی نہیں کہلا سکتی بلکہ تقدیر کی تختی بن جاتی ہے۔اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ اتکال کے بعد انسان سے غلطی کا سرزد ہونا نا ممکن ہے۔انسان سے انکال کے بعد بھی غلطی ہو جاتی ہے مگر وہ غلطیاں بھی خاص حکمت کی وجہ سے ہوتی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ غلطیاں تقدیر کے ماتحت ہوتی ہیں اور کسی صورت میں بھی اس سے مستقلی نہیں ہوتیں۔اللہ تعالٰی کی حکمت کے ماتحت جو کام بھی ہوتا ہے گو وہ بظاہر اچھا معلوم نہ ہو تا ہو مگر نتائج کے لحاظ سے وہی کام اچھا ہوتا ہے۔رسول کریم