خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 389

خطبات محمود ۳۸۹ ٩٩ جلد سوم توکل علی اللہ کے فوائد (فرموده ۲۰ مئی ۱۹۳۶ء) ۲۰۔مئی ۱۹۳۶ء کو بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک نکاح اے کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی اعمال خواہ کتنے ہی مکمل ہوں اور کتنی ہی احتیاط سے کئے جائیں کبھی نہ کبھی ان میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور ہو گا اور کوئی نہ کوئی خانہ ضرور خالی رہ جائے گا۔صرف اللہ تعالٰی ہی کی ذات ہے جو ان خلاؤں کو پر کرتی ہے اور ان سوراخوں کو بند کرتی ہے جن سے نقص نمودار ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اصبح الاول ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ رام پور میں ایک غریب پٹھان تھا اسے ملازمت نہیں ملتی تھی مزدوری کرنے کے لئے تیار تھا لیکن اسے مزدوری دینے پر لوگ آمادہ نہ ہوتے تھے۔وہ اس تنگی کی حالت میں وزیر اعظم سے ملا اور اپنی تنگی اور تکلیف اس کے روبرو بیان کی۔وزیر اعظم اس کی باتوں سے متاثر ہو گیا اور اسے ایک ملازمت دے دی۔حضرت خلیفہ اول بیان فرماتے کہ اس پر تبدیل شدہ حالت نے ایسا اثر کیا کہ وہ خدا تعالی کی ہستی کا ہی منکر ہو گیا اور لوگوں سے کہتا پھرتا کہ خدا کوئی نہیں ہے ہمارا خدا تو (وزیر اعظم کی طرف اشارہ کر کے) وہ ہے۔یہ لطیفہ مدتوں بنا رہا جب بھی اس سے خدا تعالی کی ہستی کے متعلق دریافت کیا جاتا وہ اللہ تعالی کے وجود کا انکار کرتا ہوا وزیر اعظم کو خدا کہتا۔ایک دفعہ نواب کی طرف سے کچھ مٹھائی تقسیم ہونے کی تجویز ہوئی اور وہی پرائم منسٹر مٹھائی تقسیم کرنے لگا جسے وہ پٹھان خدا کہا کرتا تھاوہ مٹھائی کی تقسیم کرتے وقت لوگوں کی بھیڑ میں گھر گیا اس پر اس