خطبات محمود (جلد 3) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ جلد سوم رضامندی کے بغیر بھی شادی کر سکتا ہے۔لڑکی کے معاملہ میں شریعت نے والدین کو ویٹو کا حق دیا ہے یعنی لڑکی اگر کہے کہ فلاں جگہ شادی کرنا چاہتی ہوں والدین مناسب نہ سمجھیں تو وہ انکار کر سکتے ہیں لیکن یہ محدود حق ہے یعنی دو دفعہ کے لئے۔اگر تیسری جگہ بھی انکار کریں تو لڑکی کا حق ہے کہ قضاء میں درخواست کرے کہ والدین اپنے فوائد یا اغراض کے لئے اس کی شادی میں روک بن رہے ہیں۔اس پر اگر قاضی دیکھے کہ یہ صحیح ہے تو لڑکی کو اختیار دے سکتا ہے کہ وہ شادی کر لے پھر چاہے وہ اس پہلی جگہ ہی شادی کرے جہاں سے والدین نے اسے روکا تھا یہ جائز شادی ہوگی۔اسی طرح شریعت نے اس بارے میں لڑکے لڑکی کو درمیان میں لاکھڑا کیا ہے مگر حالت یہ ہے کہ لوگ دونوں کی باتوں کو برا سمجھتے ہیں۔اگر کوئی کنواری لڑکی اس قسم کی درخواست قاضی کو دے تو بہت ممکن ہے جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہو وہی شادی کرنے سے انکار کر دے۔غرض شریعت نے اس پر بڑا زور دیا ہے کہ سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہیئے خواہ مرد ہو خواہ عورت۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے وَلْتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - سے وہ دیکھ لے کہ کل اس کے لئے کیا نتیجہ نکلے گا۔یہ نہیں فرمایا کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ رشتہ داروں کے متعلق کیا نتیجہ نکلے گا اور کہ ان کے ہاتھ میں کلی اختیار رہنا چاہئے۔تو لڑکے اور لڑکی کو خود شادی کے متعلق غور و فکر سے کام لینا چاہئے جس کا اسلام نے انہیں حق دیا ہے لیکن شاید ابھی یہ باتیں خواب ہیں اور ایسی خواب جس کی تعبیر آئندہ زمانہ میں نکلے گی۔تاہم ہمارا فرض ہے کہ ان کی طرف توجہ دلا میں خواہ وہ زمانہ جلد آئے یا بدیر۔الفضل ۲۹ - جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۹) لے یہ خطبہ نکاح حضور نے دوران سفر لاہور محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر ارشاد فرمایا۔(الفضل ۲۲۔جنور کی ۱۹۳۹ء) کے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا الحشر : 19