خطبات محمود (جلد 3) — Page 254
خطبات محمود ۲۵۴ ۶۹ جلد سوم روحانی تکمیل کے تین ذرائع (فرموده ااد سمبر ۱۹۲۹ء) ا۔دسمبر ۱۹۲۹ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے شیخ داؤ د احمد صاحب ابن جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا نکاح بلقیس بیگم بنت بابو فیروز علی صاحب کے ساتھ پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- گو میری طبیعت ایسی ہے کہ وہ اجازت نہیں دیتی میں لمبا خطبہ اس موقع پر پڑھوں لیکن ایک بات ایسی ہے جو اس موقع پر کے بغیر نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے محلاً تمد مولاء وَهُوَ لَا ءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ۔لے کہ ہم مومن اور کافر ہر ایک کو اس کے کام میں مدد دیتے ہیں۔مجھے اس رشتہ کے موقع پر اس آیت کی طرف توجہ اس لئے پیدا ہوئی کہ بابو فیروز علی صاحب کی اس لڑکی کے متعلق کئی رشتے میری معرفت بھی آئے اور بعض ان میں سے میں نے ان کو بتائے۔کئی ان میں سے بہت اچھے تھے مگر بابو صاحب نے یہی کہا کہ میں قادیان میں آیا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ میری لڑکی قادیان میں ہی بیاہی جائے۔ممکن ہے ان کے عذر کرنے کی اور وجوہات بھی ہوں مگر مجھ پر انہوں نے یہی ظاہر کیا۔اس مہینہ کی بات ہے ایک دن یونسی مجھے خیال آیا کہ بابو صاحب کی خواہش ہے کہ ان کی لڑکی کا رشتہ قادیان میں ہی ہو۔ایک لڑکی ان کی شیخ محمود احمد صاحب سے بیاہی ہوئی ہے۔دوسری کا رشتہ ان کے چھوٹے بھائی سے کیوں نہ ہو جائے مگر پھر مجھے یہ خیال بھول گیا۔جب خیال آیا تھا اس وقت میرا ارادہ تھا کہ اس رشتہ کے متعلق فریقین کا عندیہ معلوم کروں مگر پھر یاد نہ رہا۔یہ ۱۰- ۱۵ دن کے اندر اندر کی