خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 252

خطبات محمود ۲۵۲ جلد سوم شادی ساری عمر کا تعلق ہوتا ہے اگر لڑکے لڑکی کا مزاج نہ ملے ایک دوسرے کو پسند نہ کریں ان کے تعلقات عمدہ نہ ہوں تو ان کی ساری عمر تباہ ہو جاتی ہے بسا اوقات بعض خاندانوں میں محض اس لئے شادیاں ہو جاتی ہیں کہ ماں باپ نے کبھی بچپن میں اقرار کیا تھا کہ ہمارے ہاں لڑکا ہوگا اور تمہارے ہاں لڑکی تو ان کا رشتہ کریں گے۔جب اقرار کیا جاتا ہے تو نہ لڑکے کو ہوش ہوتی ہے اور نہ لڑکی کو۔اور بعض اوقات تو لڑکا لڑکی پیدا بھی نہیں ہوتے کہ اقرار کیا جاتا ہے اور اسے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ یہ کوئی اقرار نہیں۔کیا معلوم کہ ماں باپ لڑکے لڑکی کی شادی تک زندہ رہیں یا شادی کے بعد اتنا عرصہ زندہ رہیں کہ ان کے تعلقات اچھے یا برے ہونے کا اثر ان پر پڑے۔پس جن پر اس اقرار کا اثر پڑنا ہوتا ہے یعنی لڑکا لڑکی ان کو پوچھا تک نہیں جاتا۔سویہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ چیزیں جن کا زندگی پر اتنا اثر نہیں پڑتا ان میں تو اختیار دیا جاتا ہے لیکن ان میں اختیار نہیں دیا جاتا جن کی زندگی سے بہت بڑا تعلق ہے یہ بڑی حماقت کی بات ہے۔اسلام نے لڑکے لڑکی کو آزادی دی ہے شادی کے بارے میں مگر اس کے ساتھ ایک عجیب بات بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ لڑکا ہو یا لڑکی ماں باپ کے مشورے سے شادی کریں۔اگر بغیر مشورہ کے شادی کرے تو ماں باپ کو اختیار ہے کہ اسے کہیں کہ طلاق دے دیں اور لڑکے کو اس کی تعمیل کرنی چاہئے۔تو لڑکے کو مشورہ کرنے کا پابند قرار دیا ہے لیکن اگر ماں باپ بعد ہوں اور بغیر کوئی نقص اور خطرہ بتائے زور سے روکیں تو لڑ کا شادی کر سکتا ہے۔ہاں اسے یہ حکم ہے کہ والدین کی خواہش کو جہاں تک ممکن ہو پورا کرے۔مگر جب یہ سمجھے کہ ایسا کرنا اس کے لئے مضر ہے تو شادی کرلے۔اگر لڑکا ماں باپ سے پوچھے بغیر شادی کرے تو وہ اسے طلاق دینے کا حکم دے سکتے ہیں۔اس میں حکمت یہ ہے کہ ماں باپ اس تعلق کو اور نظر سے دیکھتے ہیں اور لڑکا اور نظر سے دیکھتا ہے۔لڑکے کے سامنے حسن، جذبات اور شہوت یا اور معاملات ہوتے ہیں۔لیکن ماں باپ کے مد نظر لڑکے کا آرام اور اس کا فائدہ ہوتا ہے اس لئے شریعت نے رکھا ہے کہ والدین سے اس بارے میں مشورہ کیا جائے تاکہ ان کے مشورہ سے مفید باتیں اس کے سامنے آجائیں جن پر وہ اپنے جذبات کی وجہ سے اطلاع نہیں پا سکتا تھا لیکن اگر وہ اپنے لئے مفید سمجھے تو ماں باپ کی