خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 75

$1958 75 خطبات محمود جلد نمبر 39 قتل کر دے۔حضرت عمر بن عبد العزیز ایک بڑے نیک آدمی تھے۔انہوں نے سلیمان بن عبد الملک کو پوچھا کیا تم نے واقعی حکم دے دیا ہے کہ محمد بن قاسم کو مار دو؟ اُس نے کہا ہاں! میں یہ حکم بھیج چکا ہوں۔انہوں نے کہا اس حکم کو منسوخ کر دو اور دوبارہ حکم بھیجو کہ اس کو نہ مارا جائے۔اُس نے کہا میں لکھ تو دیتا ہوں مگر یہ پیغام وہاں پہنچے گا کیسے؟ اُن کا ایک دوست تھا اُس نے کہا جس طرح ہوگا میں یہ پیغام وہاں پہنچاؤں گا۔میں سندھ سے بھاگا ہوا آیا ہوں اور یہاں پہنچا ہوں اور یہاں پہنچنے سے پہلے مدینہ گیا تھا۔وہاں سے دمشق آیا ہوں۔رستہ میں میں نے کہیں آرام نہیں کیا۔سوائے اس کے کہ کہیں سواری پر ہی بیٹھے بیٹھے میں سو گیا ہوں اور بے حد تھکا ہوا ہوں لیکن میں پھر بھی جاؤں گا اور جا کر یہ حکم اُس درباری کو پہنچاؤں گا۔لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ ایک جنازہ پڑا ہوا ہے۔جب اُس نے دریافت کیا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ تو وہی فقرہ جو اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر سندھیوں کے منہ سے نکلوایا تھا کہ اسلام کا سورج سندھ میں طلوع ہوتے ہی غروب ہو گیا وہی اُن لوگوں کی زبان کی سے نکلا جو جنازہ کے پاس اکٹھے تھے اور انہوں نے کہا کہ اسلامی فتوحات کا سورج عین ظہر کے وقت غروب ہو گیا۔یہ محمد بن قاسم کی لاش پڑی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں ہر زمانہ میں ایسے آدمی پیدا کرتا رہا ہے جنہوں نے اسلام کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا اور آئندہ بھی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس سلسلہ کو جاری رکھے گا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو ایک شخص نے جو بہت مخلص احمدی تھے اُس وقت یہ شبہ ظاہر کیا کہ ابھی تو بہت سی پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے ہیں۔جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا کہ یا اللہ ! اگر ساری دنیا بھی انہیں چھوڑ دے تو میں انہیں نہیں چھوڑوں گا اور میں اُس کی وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک کہ ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کر لوں۔یہ الفاظ اگر چہ اُس وقت محمد بن قاسم کی عمر کے ایک بچہ نے کہے تھے ( میری عمر اس وقت اٹھارہ انیس سال کی تھی لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو عملاً پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اُس وقت سے اس وقت تک ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی میرے ذریعہ سے احمدیت میں مضبوط ہوئے اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت روز بروز بڑھتی چلی گئی اور اب تو کئی غیر ممالک میں بھی ہماری جماعتیں قائم