خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 155

155 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 تھا اور میں نے دیکھا کہ تین سویا سوا تین سو آدمیوں کے لیے جتنے اونٹ ذبح ہونے ضروری تھے اُتنے ہی اونٹ انہوں نے ذبح کیے تھے اس لیے جہاں تک اُن کی تعداد کا سوال ہے وہ تو اتنی ہی ہے مگر پھر بھی میرا مشورہ یہی ہے کہ لڑائی نہ کرو۔انہوں نے کہا یہ کیسی بُزدلی کی بات ہے۔جب وہ تھوڑے سے آدمی ہیں تو پھر لڑائی سے ڈرنے کے معنے ہی کیا ہوئے۔وہ کہنے لگا اے میری قوم ! وہ آدمی تو تھوڑے ہی ہیں مگر خدا کی قسم ! جب میں انہیں دیکھنے گیا تو مجھے اونٹوں پر آدمی نظر نہیں آئے بلکہ مجھے موتیں نظری آئیں جوان اونٹوں پر سوار تھیں 3 یعنی ان لوگوں کے چہروں سے ایسا عزم ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر شخص اس بات کے لیے آمادہ ہے کہ اگر لڑائی ہوئی تو ہم مر جائیں گے یادشمن کو مار ڈالیں گے۔پس اگر لڑائی ہوئی تو ان میں سے ہر شخص تمہارے لیے ملک الموت بن جائے گا۔چنانچہ یہی ہوا لڑائی ہوئی تو مکہ کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ابو جہل بھی میدان جنگ میں مارا گیا اور سارے مکہ میں ماتم برپا ہو گیا۔یہ فتح ان کو اس لیے حاصل ہوئی کہ ان کے سامنے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم رہتا تھا کہ دیکھو جب لڑائی ہو تو وَ اذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ خدا تعالیٰ کو کثرت - یاد کیا کرو تا کہ تمہیں فتح حاصل ہو اور اس کا غضب تمہارے دشمن پر نازل ہو۔سے جب روم کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی ہوئی تو رومی جرنیل نے ایک وفد بھیجا اور اسے کہا کہ تم مسلمانوں کے لشکر کو جا کر دیکھو اور پھر واپس آ کر بتاؤ کہ ان کی کیا کیفیت ہے۔وہ وفد اسلامی لشکر کا جائزہ لے کر واپس گیا تو اُس نے کہا ہم دیکھ آئے ہیں، وہ آدمی تو بہت تھوڑے سے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی جن ہیں کیونکہ ہم نے دیکھا کہ وہ دن کو لڑتے ہیں اور رات کو تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہمارے سپاہی جو دن بھر کے تھکے ہوئے ہوتے ہیں وہ تو رات کو شرا ہیں پیتے ہیں، ناچ گانے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور جب ان کاموں سے فارغ ہوتے ہیں تو آرام سے سوی جاتے ہیں مگر وہ لوگ کوئی عجیب مخلوق ہیں کہ دن کو لڑتے ہیں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اُس کا ذکر کرتے ہیں۔اس لیے ایسے لوگوں سے ہمارالٹر نا بے فائدہ ہے۔4 غرض اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدائی جماعتوں کو ہمیشہ الہی مدد سے فتوحات حاصل ہوا کرتی ہیں۔جب وہ کثرت سے خدا تعالیٰ کو یاد کرتی ہیں تو اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ بھی آسمان سے اتر تا اور ان کی مددکرتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو عرب کی ساری آبادی ایک لاکھ اسی ہزارتھی مگر انہوں نے روم