خطبات محمود (جلد 39) — Page 156
$1958 156 خطبات محمود جلد نمبر 39 جیسے ملک سے ٹکر لے لی جس کی بیس کروڑ کی آبادی تھی۔پھر انہوں نے کسری کے ملک پر حملہ کر دیا اور اس کی آبادی بھی ہیں تمہیں کروڑ تھی۔گویا پچاس کروڑ کی آبادی رکھنے والے ممالک پر ایک لاکھ اسی ہزار کی کی آبادی رکھنے والا ملک حملہ آور ہوا۔اور پھر یہ ملک اتنے طاقتور تھے کہ ہندوستان بھی اُن کے ماتحت تھا، چین بھی ان کے ماتحت، اسی طرح ٹرکی ، آرمینیا، عراق اور عرب کے اور ممالک یعنی فلسطین اور مصر بھی ان کے ماتحت تھے۔مگر باوجود اتنی کثرت کے مٹھی بھر مسلمان نکلے تو انہوں نے ان لوگوں کا صفایا کر دیا اور بارہ سال کے عرصہ میں ان کی فوجیں قسطنطنیہ کی دیواروں سے جاٹکرائیں۔حضرت ایوب انصاری اُس وقت زندہ تھے اور وہ بھی ان جنگوں میں شامل تھے۔قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے انہیں تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے۔چنانچہ آج تک قسطنطنیہ میں اُن کی یادگار قائم ہے۔یہ فتوحات جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں صرف ذکر الہی کا نتیجہ تھیں۔لیکن جب مسلمان بگڑ گئے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی کو چھوڑ دیا تو اُس وقت اُن کی یہ حالت ہوئی کہ جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو مسلمان ایک بزرگ کے پاس گئے اور اُسے کہا کہ دُعا کریں بغداد سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔انہوں نے کہا میں رات کو دعا کروں گا تم صبح میرے پاس آنا، جو کچھ جواب ملے گا وہ بتا دوں گا۔جب وہ صبح کو آئے تو انہوں نے کہا میں تمہارے لیے کیا دعا کروں؟ میں تو جب بھی ہاتھ اٹھاتا تھا مجھے اللہ تعالیٰ کے ملائکہ کی یہ آواز میں آتی تھیں کہ يَا أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ یعنی اے کا فرو! ان فاجر مسلمانوں کو خوب مارو کیونکہ یہ مسلمان کی ہی نہیں رہے۔اب بتاؤ جب خدا کہہ رہا ہے کہ ان مسلمانوں کو مارو تو میری دعائیں کیا کریں گی۔غرض جب تک مسلمانوں میں ذکر الہی رہا ان کے تھوڑے تھوڑے آدمیوں نے بڑے بڑے ملکوں کو بھگا دیا۔لیکن جب مسلمانوں میں سے ذکر الہی اُٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل جاتا ہے رہا تو ان کی حالت یہاں تک گر گئی کہ جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو اس کے دس دس آدمی دود ولاکھ کی آبادی رکھنے والے ملکوں میں جاتے تو مرد، عورتیں اور بچے سب بھاگ کھڑے ہوتے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان اپنے اندر اتنی طاقت محسوس کرتے تھے کہ ایک دفعہ جب روم کے بادشاہ نے دیکھا کہ اُس کی فوج کو بار بار شکست ہو رہی ہے اور اُسے اپنی سلطنت کے متعلق خطرہ محسوس ہوا تو اُس نے اپنے ایک جرنیل کو جس کا نام ہامان تھا بلوایا اور اُسے کہا کہ تم بڑے بہادر ہو، میں تمہیں مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بھجواتا ہوں۔اگر تم جیت گئے تو میں اپنی لڑکی کی