خطبات محمود (جلد 39) — Page 154
154 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 سامان نظر آ رہے ہیں کہ شاید یہ لوگ جیت ہی جائیں۔اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی جانتا ہے کہ مسلمان کا میاب ہوں گے اور خود مسلمانوں کو بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ جیتیں گے اور دشمن ہارے گا۔مگر فرماتا ہے اس کے بعد ایسے سامان پیدا ہوں گے کہ جن کے نتیجہ میں دشمن بھی خیال کرنے لگ جائے گا کہ شاید یہ مسلمان جیت ہی جائیں۔چنانچہ بدر کے میدان میں جب صحابہ جمع ہوئے اور کفار بھی لڑائی کے لیے آگئے تو کفار میں سے بعض نے اپنے سرداروں کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں سے لڑائی کرنے کی بجائے صلح کر لینی چاہیے۔اس پر وہ لوگ جو صلح کرنا نہیں چاہتے تھے انہوں نے ایک شخص کو جس کا کوئی بھائی کسی چھوٹی جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا اُکسایا اور اُسے کہا تم شور مچانا شروع کر دو کہ میرا بھائی ان مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا مگر آج میری قوم اس کا بدلہ لینے کے لیے تیار نہیں۔عربوں میں رواج تھا کہ ایسے موقع پر وہ چادر کھول کر سر پر رکھ لیتے اور پھر رونا شروع کر دیتے۔اسی طریق کے مطابق اس نے بھی چادر کھول کر سر پر رکھ لی اور پھر رونے پیٹنے لگ گیا اور اس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہائے میرے بھائی! تیری قوم نے تجھے چھوڑ دیا اور وہ تیرا بدلہ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔جب اُس نے اس طرح شور مچایا تو قوم کے اندر جوش پیدا ہو گیا اور سب کے سب مسلمانوں سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔جب مقابلہ کا فیصلہ ہو گیا تو ابوجہل نے ایک سردار کو بلایا اور اسے کہا کہ تم ذرا جا کر پتا تو لو کہ مسلمان کتنے ہیں۔وہ نظر تو تھوڑے آتے ہیں لیکن ممکن ہے کچھ پہاڑی کے پیچھے بھی چھپے ہوئے ہوں۔جیسا کہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاذْيُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أعْيُنِكُمُ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِم 2 یعنی اُس وقت کو یاد کرو جب کہ وہ ان کفار کو تمہاری نگاہ میں لڑائی کے وقت بالکل حقیر کر کے دکھاتا تھا اور تمہیں اُن کی نظر میں تھوڑے کر کے دکھاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ شاید کچھ لوگ پہاڑی کے پیچھے بھی چھپے ہوئے ہوں۔وہ گیا اور اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کے بعد واپس آ گیا۔جب وہ واپس آیا تو کفار نے اُس سے پوچھا کہ بتاؤ تمہاری مسلمانوں کے متعلق کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا میری رائے تو یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا پہلے تم یہ بتاؤ کہ اُن کی تعداد کتنی ہے؟ اُس نے کہا تعداد تو تھوڑی ہے۔تین سویا سوا تین سو کے قریب ہیں اور پہاڑی کے پیچھے کوئی لشکر بھی نہیں کیونکہ میں اُن کے باورچی خانہ میں گیا