خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 125

$1958 125 خطبات محمود جلد نمبر 39 اُسی وقت ڈنڈا اٹھایا اور آسمان کی طرف چڑھنا شروع کر دیا۔عزرائیل آگے آگے بھاگا جا رہا تھا ؟ اور وہ ڈنڈا اٹھائے اُس کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔وہ آسمان میں داخل ہی ہونے لگا تھا کہ یہ اس و کے پاس پہنچ گئے اور زور سے اُسے ڈنڈا مارا جس سے وہ لنگڑا ہو گیا اور روحوں کی تھیلی اس کے ہاتھ سے چھین کر اُس کا منہ کھول دیا۔وہ روتا رو تا خدا تعالیٰ کے پاس گیا اور کہنے لگا خدایا ! میں تو ی تیرے کام گیا تھا مگر عبد القادر جیلانی نے مجھے ڈنڈا مارا اور میرے ہاتھ سے روحوں کی تحصیلی چھین کر انہوں نے ساری روحوں کو آزاد کر دیا۔اب میرا کام کیا رہ گیا۔میری جگہ کسی اور کو مقرر کر دیجیے۔پھر انہوں نے صرف وہی روح نہیں نکالی جو اُن کے مرید کے لڑکے کی تھی بلکہ جتنی روحیں تھیلی میں کی بند تھیں وہ سب کی سب انہوں نے کھول دی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ بات سنی تو فرشتہ سے کہنے لگا چُپ چُپ ! اگر عبد القادر جیلانی نے یہ بات سن لی تو میرا کیا بنے گا ؟ تو خوامخواہ شور مچا رہا ہے۔اگر عبد القادر جیلانی کے کان میں یہ بات پڑ گئی تو نَعُوذُ بِاللهِ میری بھی خیر نہیں۔اب اس قسم کا عقیدہ بھی شرک میں ہی داخل ہے۔اسی طرح خدا السَّمیع ہے۔اس لیے لوگ اپنے بچوں کا نام عَبُدُ السَّمِيع رکھا کرتے ہیں اور السمیع کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں کی دعائیں سنتا ہے اور نرالے طور پر سنتا ہے اور یہ کی کہ اس کے سوانہ زندہ آدمی دوسروں کی دعائیں سن سکتے ہیں اور نہ مُردہ۔صرف خدا ہی ہے جو لوگوں کی دُعائیں سنتا اور ان کو قبول فرماتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو کوئی یورپ میں دُعا مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی ایشیا میں مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی چین میں مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی جاپان میں مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی روس میں مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی مصر، شام اور فلسطین میں مانگ رہا ہوتا ہے مگر خدا ان سب کی دعائیں سن رہا ت ہوتا ہے لیکن بعض مسلمان خیال کرتے ہیں کہ زندہ تو الگ رہے مُردے بھی لوگوں کی دعاؤں کو سن لی لیتے ہیں۔مجھے یاد ہے 1912ء میں میں لکھو گیا تو ندوہ جہاں سب سے اعلیٰ اور نئی طرز کی تعلیم دی جاتی ہے اُس کو دیکھنے کے لیے بھی ہم چلے گئے۔وہاں ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کہ حافظ روشن علی صاحب جو میرے ساتھ تھے انہوں نے لڑکوں سے ایک سوال کیا تو شبلی صاحب کے ایک خاص الخاص شاگرد نے لڑکوں کو ڈانٹ دیا کہ خبردار ! جو اس کا جواب دیا۔بعد میں شبلی صاحب کو پتا