خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 124

124 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 مگر سیدھے کے لفظ سے ہی یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ وہ موحد ہو کیونکہ جو سیدھا ہو گا وہی جنوں کی طرف نہیں جائے گا یا ایسے کاموں میں مشغول نہیں ہو گا جن میں خدا تعالیٰ کی اتباع سے منحرف ہونا پڑتا ہومگر فرما چونکہ ہر شخص حنیف کے لفظ سے یہ مفہوم سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی فر دیا کہ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسے شرک سے سخت نفرت تھی اور اس کی توجہ ہمیشہ اپنے واحد خدا کی طرف رہتی تھی۔شرک کا لفظ تو ایسا ہے جسے سب لوگ سمجھتے ہیں مگر شرک کے معنے صرف بچوں کے آگے سجدہ کرنے کے نہیں۔ایسا شرک تو آجکل عیسائیوں اور نو تعلیم یافتہ ہندوؤں میں بھی نہیں پایا جاتا اور وہ ان بھی جوں کے آگے سجدہ نہیں کرتے۔پس مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کے یہ معنے نہیں کہ وہ جوں کے آگے سجدہ نہیں کرتا تھا بلکہ در حقیقت شرک کئی قسم کا ہوتا ہے۔ایک تو شرک فی الذات ہے یعنی کسی کو ایسا سمجھ لینا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی ہے۔جیسے عیسائی کہتے ہیں کہ باپ بھی ازلی ہے، بیٹا بھی از لی ہے اور روح القدس بھی ازلی ہے۔اور ایک شرک فی الصفات ہوتا ہے جیسے خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں ہی پیدا کیا کرتا ہوں۔اب اگر کسی انسان کے متعلق یہ مجھ لیا جائے کہ وہ بھی خلق کیا کرتا تھا تو یہ شرک فی الصفات ہوگا۔جیسے بعض مسلمان سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔یا مثلاً مُردے کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے مگر بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی بھی مر دوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔قادیان کی بات ہے وہاں غیر احمدی مولویوں نے ایک دفعہ جلسہ کیا جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب بھی آئے اور انہوں نے ہمارے خلاف بڑی تقریریں کیں۔اسی جلسہ میں ایک حنفی مولوی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مرزائی کہا کرتے ہیں مرزا صاحب کی فلاں پیشگوئی پوری ہوئی اور انہوں نے فلاں نشان دکھایا۔بھلا یہ بھی کوئی معجزے ہیں معجزہ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دفعہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے پاس اُن کا ایک مُرید آیا اور کہنے لگا حضور ! میرا بیٹا بیمار ہے دعا کریں کہ وہ اچھا ہو جائے۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔ہم دعا کریں گے وہ ٹھیک ہو جائے گا مگر وہ کی مر گیا۔اس پر وہ پھر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا حضور! میرا بیٹا تو مر گیا۔کہنے لگے ہیں ! مر گیا ؟ اب عزرائیل میں بھی اتنی جرات ہو گئی ہے کہ وہ میرے حکم کی خلاف ورزی کرے؟ انہوں۔