خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 126

126 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 لگا تو انہوں نے بڑے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میں تو ان لوگوں کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا ہوں مگر یہ مولوی سمجھتے ہی نہیں۔اس کے مقابلہ میں فرنگی محل کا مدرسہ جو سب سے پرانا مدرسہ ہے اور جہاں درسِ نظامی پڑھایا جاتا تھا اور حنفیوں کا تھا وہاں ہم گئے تو باوجود اس کے کہ وہ چھٹی کا دن تھا۔اساتذہ نے تمام لڑکوں کو جمع کر لیا اور ہمیں اپنا سکول دکھایا اور ہم سے مختلف امور پر گفتگو کرتے رہے۔مولوی عبدالعلی صاحب ان کے مشہور عالم تھے۔اسی طرح مولوی عبدالحی صاحب مرحوم بھی ان کے بڑے مشہور عالم گزرے ہیں بلکہ مولوی عبدالحی صاحب تو اتنے بڑے پایہ کے تھے کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی جو بڑے مشہور بزرگ تھے وہ اپنی کتابوں پر ہمیشہ مولوی عبدالحی صاحب سے ریویو مانگا کرتے تھے اور جب وہ ریویو کر دیتے تو سمجھتے تھے کہ اب یہ کتاب مستند ہوگئی ہے۔مولوی عبدالحی صاحب تو اُس وقت فوت ہو چکے تھے مگر ان کا ایک لڑکا دس گیارہ سال کی عمر کا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑ کا بڑا ذہین ہے۔آپ اس سے کوئی سوال کیجیے۔چنانچہ ہم نے سوالات کیے تو واقع میں اُس نے ایسے جواب دیئے جن سے اس کی اعلیٰ درجہ کی ذہانت اور دماغی قابلیت ظاہر ہوتی تھی۔مگر جب ہم واپس آگئے تو چند دنوں کے بعد ہمیں پتا لگا کہ وہ لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔مولوی عبدالعلی صاحب کا ایک خاص شاگر د تھا جس کو انہوں نے سکول دکھانے کے لیے ہمارے ساتھ مقرر کیا اور اُس نے ہمیں تمام سکول دکھایا مگر جب واپس آئے تو وہ عصر کا وقت تھا۔راستہ میں ایک مسجد تھی ، اُس میں ہم نماز پڑھنے کے لیے چلے گئے۔نماز پڑھنے کے بعد ہم آ رہے تھے کہ ہم نے راستہ میں دیکھا کہ وہی مولوی صاحب ایک فقیر کی قبر پر سجدہ میں گرے ہوئے ہیں۔اُسے دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی کہ یہ اتنا عالم آدمی ہے مگر پھر اتنا گر گیا ہے کہ ایک فقیر کی قبر پر سجدہ کر رہا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ابراہیم کسی قسم کا بھی مشرک نہیں تھا۔الف لام جب جمع پر آئے تو اُس میں تخصیص کے معنے پیدا ہو جاتے ہیں یا الف لام اُس کو اتنا نکرہ کر دیتا ہے کہ ہر قسم اور نوع اس میں شامل ہو جاتی ہے۔پس بعا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ رکین کے یہ بھی معنے ہیں کہ وہ اپنی توحید میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا اور یہ بھی معنے ہیں کہ اس میں کسی قسم کا بھی شرک نہیں پایا جاتا تھا۔نہ وہ خدا تعالیٰ کی ذات میں شرک کرتا تھا اور نہ اُس کی صفات میں شرک کرتا تھا۔یہ چیز ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ ہمیں توجہ دلاتا ہے مگر افسوس ہے