خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 50

1958ء 50 خطبات محمود جلد نمبر 39 اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب آ جاتا ہے۔ دوسرے ایام کے متعلق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا فرمایا ہے کہ صبح اور عصر کی نمازوں میں خدا تعالیٰ کے ملائکہ اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ بندوں کا ذکر اٹھا کے خدا تعالیٰ تک لے جاتے ہیں 2 اور تہجد کے وقت کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ آسمان سے اتر آتا ہے اور وہ بندوں سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم مانگنا چاہتے ہو مجھ سے مانگو 3 لیکن قرآن کریم بتاتا ہے کہ خصوصیت کے ساتھ یہ چیز رمضان میں حاصل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ایام میں سحری کے وقت اُٹھنے کی وجہ سے تہجد کا موقع زیادہ ملتا ہے اور عام طور پر جو لوگ تہجد پڑھنے میں سست ہوتے ہیں وہ بھی ان ایام میں سحری کھانے کے لیے اٹھتے ہیں اور تہجد پڑھ لیتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان دنوں میں میں اپنے بندوں کے قریب ہو جاتا ہوں اور ہر اخلاص کے ساتھ دعا کرنے والے کی دعا کو سنتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ وہ بھی میری باتوں کو سنے اور ان پر عمل کرے۔ دوستی ایک طرف کی نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دوستی دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ پس فرماتا ہے فَلْيَسْتَجِيبُوالي میں اُن کی دعا ئیں تو سنوں گا مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی میرے احکام پر لبیک کہیں ۔ یعنی جو احکام میں ان کو دوں وہ ان کو قبول کریں۔ وَلْيُؤْمِنُوا ل اور خالی لبیک نہ کہیں بلکہ یقین رکھیں کہ ہم جو دعا کر رہے ہیں وہ ضرور قبول ہوگی ۔ وَلْيُؤْمِنُوالی میں جس ایمان کا ذکر ہے اس سے مراد خالی ایمان نہیں کیونکہ اگر کسی دل میں ایمان نہیں ہو گا تو وہ روزہ کیوں رکھے گا اور دعائیں کیوں کرے گا۔ وَلْيُؤْمِنُوالی کے معنے یہ ہیں کہ وہ تو گل کرے اور میرے متعلق یقین رکھے کہ میں اُس کی دعا ئیں ضرور سنوں گا اور اسے ناکام و نامراد نہیں رکھوں گا۔ اس یقین کے ساتھ جو شخص دعا کرے وہی الداع“ کہلانے کا مستحق ہے اور اس کی دعاسنی جاتی ہے۔ اور پھر جو تو گل کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ میری ضرور سنے گا اُس کو اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے کمالات روحانیہ تک پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ۔ اور لعل “ کے متعلق لغت والے لکھتے ہیں کہ جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لیے بولا جائے تو اُس وقت اس کے معنے یقین کے ہوتے ہیں۔ پس لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ کے یہ معنے ہیں کہ اگر ان کے دل میں یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ ان کی دعائیں ضرور سنے گا تو خدا ان کی دعاؤں کو یقینی طور پر قبولیت عطا فرمائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عبادت کرتے وقت ہر