خطبات محمود (جلد 39) — Page 51
$ 1958 51 خطبات محمود جلد نمبر 39 انسان کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یا کم سے کم وہ یہ سمجھے کہ خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے۔34 ب خدا تعالیٰ کے دیکھنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ اُس کے قریب ہو جاتا ہے ورنہ دیکھ تو وہ عرش سے بھی رہا ہے۔درحقیقت اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندہ کے اتنے قریب آ جاتا ہے کہ انسان یہ یقین کرنے لگ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے بلکہ اُس سے ترقی کر کے وہ اس مقام کو بھی حاصل کر لیتا ہے جس میں وہ خود بھی خدا تعالیٰ کو دیکھنے لگ جاتا ہے۔پس یہ دن نہایت رحمتوں اور برکتوں کے ہیں۔چاہیے کہ آپ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں۔میں نے یہ تجربہ کیا ہے کہ جن دنوں جماعت کے دوست میری صحت کے لیے خاص طور پر دعائیں کرتے ہیں میری صحت اچھی ہو جاتی ہے۔جب سے ہم جابہ سے آئے ہیں میری صحت گرتی جارہی ہے۔درمیان میں جلسہ کے قریب میری صحت کچھ اچھی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقاریر کر لیں مگر اس کے بعد میری صحت گرتی چلی گئی۔اس لیے جو باتیں میں پہلے آسانی سے کر لیتا تھا وہ میں اب نہیں کر سکتا۔اب کے میں علاج کے لیے کراچی گیا تو وہاں کے ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد جو نسخہ مجھے استعمال کے لیے بتایا اُس سے مجھے کسی قدر فائدہ ہوا مگر اس کے بعد جود وسر انسخہ انہوں نے استعمال کے لیے بتایا تھا وہ میں نے پہلی دفعہ 15 مارچ کو استعمال کیا تھا اور آج 21 تاریخ ہے مگر میری ٹانگ کی خرابی دور نہیں ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ سبق دیا ہے کہ یہ چیز ہمارے فضل اور جماعت کی دعاؤں سے وابستہ ہے ڈاکٹروں کے علاج سے یہ کام نہیں بنے گا۔پس جہاں دوست روزے رکھیں وہاں وہ اس بات کے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صرف سانس لینے والی زندگی نہ دے بلکہ ایسی زندگی دے جس میں میں اسلام کی کوئی خدمت کر سکوں۔سانس لینے والی زندگی تو مجھے اس بیماری میں بھی حاصل ہے۔اگر میں بیماری کی وجہ سے لیٹا ہوا ہوتا ہوں اور کوئی میرے پاس آ جاتا ہے تو میں اس سے باتیں کر لیتا ہوں لیکن یہ نہیں کہ میں کوئی کام کر سکوں۔مثلاً کل مجھے تعلیم الاسلام ہائی سکول والوں نے اپنی مسجد کے افتتاح کے لیے بلایا لیکن بیماری کی وجہ سے میں وہاں نہیں جا سکا۔آج مجھے ہسپتال والوں کی طرف سے بلایا گیا ہے مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ میں وہاں جاسکوں گا یا نہیں۔پس کام کرنے والی زندگی اور ہوتی ہے اور خالی سانس لینے والی اور ہوتی ہے۔