خطبات محمود (جلد 39) — Page 292
292 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 را د تلوار نہیں بلکہ اس موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے خُذُوا حِذْرَكُمْ سے مُراد یہ ہے کہ تم اپنے کپڑے تیار رکھا کرو۔سو میں دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ آئیں تو اپنا بستر اور پورے کپڑے ساتھ لائیں کیونکہ کئی جلسوں پر دیکھا گیا ہے کہ کمزور آدمی جلسہ کے دنوں میں سردی کی برداشت نہ کرنے کی وجہ سے واپس جاتے ہی نمونیا یا کسی اور مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک ایک آدمی کا احمدی بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔سالہا سال کے بعد کہیں جا کر ایک آدمی تیار ہوتا ہے۔پس اس کے ضائع ہونے پر اتنا ہی افسوس ہوتا ہے۔سو ہماری جماعت کو اپنی جانوں کی حفاظت اور بچاؤ کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے۔جنگ کے ماہرین کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں میں اسلامی لشکر اور غیر اسلامی لشکر میں یہی فرق ہوتا تھا کہ غیر اسلامی لشکر تہور سے کام لیتا تھا اور اسلامی لشکر جرات سے کام لیتا تھا۔جاپانیوں میں بھی یہی ہے کہ جو مر جائے اُس کی بڑی قدر کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی بڑا بہادر ہے کیونکہ وہ قوم اور ملک کی خاطر مر گیا۔مگر اسلامی جنگوں میں مرنے والے سے مارنے والے کی زیادہ قدر کی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنے آدمی مارے ہیں۔اسی طرح جلسہ کے دنوں میں قربان ہو جانا زیادہ قابل قدر چیز نہیں بلکہ جلسہ کے بعد لوگوں کو ہدایت کی طرف لا نا قابل قدر چیز ہے تا کہ جماعت جتنی زیادہ پھیل سکے پھیل جائے۔پس ہماری جماعت کو کی تہو رنہیں دکھانا چاہیے بلکہ شجاعت دکھانی چاہیے۔عربی زبان میں تہو ر اس بات کو کہتے ہیں کہ جان کی پروانہ کی جائے اور اندھا دھند قربانی کی جائے اور شجاعت اس کو کہتے ہیں کہ ایسی دلیری سے کام کیا جائے کہ کام کرنے والا اپنی جان بھی بچائے اور دشمن کو بھی زیر کرنے کی کوشش کرے۔غیر قوموں میں بے شک تہور کو بڑی قابلِ قدر چیز سمجھا جاتا ہے لیکن عرب قوموں کی اور اسلام میں شجاعت کو بڑا سمجھا جاتا ہے۔پس ہمارا صرف یہ کام نہیں کہ ہم اسلام کے لیے اپنی جان قربان کر دیں بلکہ یہ کام بھی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ایسے آدمی کھینچ کر لائیں جو اسلام کے لیے قربانیاں کرنے والے ہوں۔غرض جلسہ میں شمولیت بڑے ثواب کا کام ہے لیکن ساتھ ہی دوستوں کو یہ خیال بھی رکھنا اہیے کہ جماعت کو بڑھانا اور حق کی اشاعت کرنا اس سے بھی بڑا کام ہے۔اپنی جان کی حفاظت کرنا