خطبات محمود (جلد 39) — Page 242
$1958 242 خطبات محمود جلد نمبر 39 کو نرسنگ سکھائی اور اس طرح انہیں عیسائی بنالیا۔دوسرا فتنہ اِلهِ الناس 1 کے مقابلہ میں پیدا ہوگا اور پادری وغیرہ جو خرابیاں پیدا کریں جی گے اور دلوں میں شبہات ڈالیں گے اس میں بعض مسلمان اُن کی مدد کریں گے۔چنانچہ عیسائیوں نے اگر حضرت مسیح کو خدا قرار دیا تھا تو مسلمانوں نے بھی اسے آسمان پر چڑھا دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ فوت نہیں ہوئے۔تیسرا فتنہ جس کی اس سورۃ میں خبر دی گئی تھی وہ فلسفیوں کا فتنہ تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ آپ تو ہٹ کر رہیں گے مگر کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکوں کے لیے وہ ایسی کتابیں لکھیں گے جو اُن کے دلوں میں زہر یلے خیالات پیدا کر دیں گی۔ان کے لیے تو عیسائیت بھی باطل مذہب ہوگا اور اسلام بھی۔مگر وہ در پردہ اسلام پر اعتراض کریں گے اور کتابیں لکھ لکھ کر سکولوں اور کالجوں کے لڑکوں کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔غلام حسین ہدایت اللہ جو سندھ کے گورنر تھے انہوں نے ایک دفعہ بیان کیا کہ میرے سامنے ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب کا ذکر ہوا تو کسی نے آپ پر اعتراض کر دیا۔میں نے اُسے کہا کہ میاں ! تم جوان ہو اور پرانے حالات کا تمہیں علم نہیں۔میری اپنی یہ حالت تھی کہ میں عیسائی ہونے لگا تھا کہ اچانک میں نے مرزا صاحب کی کتابیں پڑھیں اور میں عیسائی ہونے سے بچ گیا۔غرض عیسائیوں نے کالج بنا بنا کر نو جوانوں کو عیسائیت کی طرف مائل کیا۔پس ہمارا سب سے مقدم فرض یہ ہے کہ ہم عیسائیت کا مقابلہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مبعوث کیا ہے جو مذہبی عقائد اور مذہبی خیالات میں ابتری اور فساد پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے 2 اور اس فتنہ کا وہ حصہ جو سیاسی حالات اور سیاسی امن کو برباد کرنے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس کو بھڑ کانے والوں کا نام یا جوج ماجوج رکھا گیا ہے جو برطانیہ، امریکہ اور روس ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ دجال آسمان سے پانی برسائے گا جس کے معنے تھے کہ وہ لوگوں کو رزق دے گا۔3 چنانچہ اب بھی جو لوگ عیسائی ہو جائیں اُن کو مالی امداد دی جاتی ہے اور ان کا کھانے پینے کا معیار نسبتاً بلند ہو جاتا ہے۔ان لوگوں میں ایک باطل مذہب کا پیر وہونے کے باوجود قربانی پائی جاتی ہے۔