خطبات محمود (جلد 39) — Page 353
$1959 353 خطبات محمود جلد نمبر 39 نے اپنی وفات تک ایسا اخلاص دکھایا کہ حیرت آتی ہے۔ٹائن بی نے جو انگلستان کا ایک بہت بڑا مؤرخ گزرا ہے اسلام پر ایک کتاب لکھی ہے۔اس کتاب میں وہ جماعت احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ لوگ تھوڑے ہیں اور دوسرے لوگ زیادہ ہیں لیکن جیسے گھوڑ دوڑ میں بعض دفعہ ایک گھوڑا پیچھے سے آ کر آگے نکل جاتا ہے اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بعد میں آنے والے لوگ عیسائیوں کو مات کر دیں اور ان سے آگے نکلی جائیں۔اسی طرح میں نے ایک خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے افریقہ میں اپنے بعض طالبعلم اس لیے بھیجے ہیں کہ وہ وہاں احمدیت کا مطالعہ کریں کیونکہ افریقہ میں ہماری جماعت جلد جلد پھیل رہی ہے۔اسی طرح ایک پادری نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پہلے ہمارا خیال تھا کہ افریقہ میں عیسائیت بہت جلد پھیل جائے گی اور باقی سب مذاہب کو کھا جائے گی لیکن اب حالت اس مالی کے برعکس ہے۔افریقہ میں اسلام اس کثرت سے پھیل رہا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ عیسائیت کو کھا جائے گا۔غرض احمدیت جسے اپنے اور بیگانے ابتدا میں محض کھیل سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کو اتنی ترقی عطا کی کہ اس کے ذریعہ دنیا کے کونہ کونہ میں اسلام پھیل گیا۔ایک دفعہ ایک نومسلم انگریز نے مجھے لکھا ایک وقت تھا کہ میں عیسائیوں کی کتابیں پڑھ کر یہ خیال کرتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعُوذُ بِاللهِ مذہب کو سخت نقصان پہنچایا ہے اس لیے میں سوتے وقت بھی آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا لیکن اب خدا تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا ہے اور مجھے احمدیت کی نعمت سے نوازا ہے جس کی وجہ سے میں اُس وقت تک سوتا نہیں جب تک آپ پر درود نہ بھیج لوں۔جب میں بیماری کے علاج کے سلسلہ میں انگلینڈ گیا تو وہاں مجھے ایک بہت بڑے ادیب ڈسمنڈ شا ملنے کے لیے آئے۔ملاقات کے بعد جب میں اپنے کمرہ میں جانے لگا تو میں نے کسی کے پاؤں کی آہٹ سنی۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈسمنڈ شا میرے پیچھے آرہے تھے۔میں نے کہا میں نے تو آپ کو رخصت کر دیا تھا پھر آپ میرے پیچھے کیسے آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نے ایک بات دریافت کرنی ہے۔میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا اگر چہ میں عیسائی ہوں اور ابھی تک