خطبات محمود (جلد 39) — Page 352
$1959 352 خطبات محمود جلد نمبر 39 چونکہ وہ میرے روحانی باپ ہیں اس لیے جب میں اپنے روحانی باپ کے پاس جاؤں گا تو پونڈ اُن کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کروں گا۔اس غرض سے وہ روپیہ جمع کرتے رہتے تھے۔جب ان کے مریدان سے سوال کرتے کہ وہ اپنے روحانی باپ کے پاس کب جائیں گے؟ تو انہیں کہتے جب میں جاؤں گا تو تمہیں بتادوں گا۔جب انہوں نے اس میں زیادہ دیر لگا دی تو ان کے مُریدوں نے کہا کہ آپ اگر نہیں جاتے تو ہمیں جانے کی اجازت دے دیں۔اس پر انہوں نے بعض مُریدوں کو اس شرط سے قادیان آنے کی اجازت دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سونا پیش کی کریں گے۔چنانچہ وہ قادیان آئے۔مرزا امام دین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چازاد بھائی تھے چو ہڑوں کے پیر بنے ہوئے تھے۔اور اپنے آپ کو ان کے بزرگوں کا اوتار قرار دیتے اور کہتے کہ چوہڑوں کا لال بیگ میں ہوں۔انہوں نے جب دیکھا کہ ادنی اقوام کے بعض لوگ آئے ہیں تو انہوں نے انہیں بلایا اور ان کے آگے حقہ رکھ دیا اور پوچھا کہ تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لیے آئے ہیں۔اس پر مرزا امام دین صاحب نے کہا چو ہڑوں کا لال بیگ تو میں ہوں تم مرزا غلام احمد کے پاس کیوں چلے گئے؟ وہ تو ٹھگ ہے اور اُس نے یونہی دکان بنائی ہوئی ہے۔تمہیں وہاں سے کیا ملا ہے؟ وہ لوگ ان پڑھ تھے لیکن تھے حاضر جواب۔انہوں نے جواب دیا مرزا صاحب! ہم ادنی اقوام سے تعلق رکھتے تھے مرزا غلام احمد صاحب پر ایمان لائے تو لوگ ہمیں مرزائی مرزائی کہنے لگ گئے۔آپ مغل تھے اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کی وجہ سے آپ چوہڑے کہلانے لگ گئے۔اس پر وہ گھبرا کر خاموش ہو گئے۔غرض غیر تو غیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے قریبی رشتہ دار بھی یہ سمجھتے تھے کہ سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ یہ محض دکانداری ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بڑھایا اور دنیا کے کونہ کونہ میں اس کے پودے لگا دیئے۔میں نے بتایا ہے کہ مرزا امام دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سخت مخالفت تھے لیکن جیسے اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے ہاں عکرمہ جیسا بزرگ بیٹا پیدا کر دیا تھا اُسی طرح مرزا امام دین صاحب کی لڑکی خورشید بیگم جو ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاء سے بیاہی ہوئی تھیں بڑی نیک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور سلسلہ احمدیہ کی سچی عاشق تھیں انہوں