خطبات محمود (جلد 39) — Page 354
$1959 354 خطبات محمود جلد نمبر 39 اسلام نہیں لایا لیکن جب میں اسلام کے متعلق تقریر کرتا ہوں تو میرے دل سے آواز آتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سب سے بڑے محسن ہیں لیکن جو لوگ عیسائی ہیں وہ یہ بات نہیں مانتے۔میں نے کہا خدا تعالیٰ آپ کے دل پر نازل ہوتا ہے اُن لوگوں کے دلوں پر نازل نہیں ہوتا۔جب اُن لوگوں کے دلوں پر بھی خدا تعالیٰ نازل ہونے لگ جائے گا تو وہ بھی یہ بات مان جائیں گے۔اُس نے کہا اب میں یہ بات سمجھ گیا ہوں۔یہ شخص بہت بڑا مصنف ہے۔اس نے مجھے بتایا تھا کہ گو ایچ۔جی ویلیز زیادہ مشہور ہے لیکن میری کتابیں اُس سے زیادہ پکتی ہیں اس لیے کہ میں مذہب کا مو ب ہوں اور وہ مذہب کا مخالف ہے۔غرض وہ سلسلہ جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ خیال کرتے تھے کہ یہ چند دن کا مہمان ہے اُس کے پودے دنیا کے کونہ کونہ میں لگ گئے ہیں اور اب غیر بھی ای اس کی تعریف کرتے ہیں۔میرے زمانہ خلافت میں جب پیغامی مولوی محمد احسن صاحب کو ورغلا کر لاہور لے گئے اور انہوں نے کہا میں نے ہی انہیں خلیفہ بنایا تھا اور اب میں ہی انہیں معزول کرتا ہوں تو اس کی وجہ سے جماعت میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔جلسہ سالانہ کے موقع پر ان کے متعلق ایک ریزولیوشن پاس ہوا تو میں نے انہیں جماعت سے خارج کر دیا۔اس موقع پر ایک دوست جو مخلص تھے مگر بات جلدی نہیں سمجھتے تھے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یہ بڑے بزرگ صحابی ہیں انہیں جماعت سے نہ نکالیں۔اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا مولوی صاحب! پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے جو خلیفہ ہوں معزول کر دیں اور مولوی محمد احسن صاحب کو جماعت میں رکھ لیں۔اس پر وہ دوست کہنے لگے اچھا! اگر یہ بات ہے تو پھر نکال دیں۔مولوی محمد احسن صاحب کی طبیعت بھی ایسی ہی تھی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بسراواں کی طرف سیر کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے کلام میں اور بندہ کے کلام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔آپ نے اپنا ایک الہام سنایا اور فرمایا دیکھ لو یہ بھی ایک کلام ہے اور اس کے مقابل پر حریری کا بھی کلام موجود ہے۔مولوی محمد احسن صاحب نے بات کا آخری حصہ غور سے نہ سنا اور الہام کے متعلق خیال کر لیا کہ یہ تحریری کا کلام ہے اور کہنے لگے بالکل لغو ہے بالکل لغو ہے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کا الہام ہے تو مولوی محمد احسن صاحب