خطبات محمود (جلد 38) — Page 80
$1957 80 خطبات محمود جلد نمبر 38 اُس چادر سے بھی انہیں اٹھنا پڑا۔اور اس طرح ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا۔تو دیکھو! یہ آیات بینات ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دشمن کے ہاتھوں سے بری فرمایا۔پھر اس پر ہی بس نہیں سر ڈگلس کو خدا تعالیٰ نے اور نشانات بھی دکھائے جو مرتے دم تک انہیں یادر ہے اور انہوں نے خود مجھ سے بھی بیان کیے۔1924ء میں جب میں انگلینڈ گیا تو انہوں نے یہ سارا قصہ مجھ سے بیان کیا۔سرڈگلس کے ایک ہیڈ کلرک تھے جن کا نام غلام حیدر تھا وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے بعد میں وہ تحصیلدار ہو گئے تھے۔معلوم نہیں وہ اب زندہ ہیں یا نہیں۔اور زندہ ہیں تو کہاں ہیں۔پہلے وہ سرگودھا میں ہوتے تھے۔انہوں نے خود مجھے یہ قصہ سنایا اور کہا جب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ ہوا تو میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ہیڈ کلرک تھا۔جب عدالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں۔تم ابھی جا کر ہمارے لیے ریل کے کمرہ کا انتظام کرو۔چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر آ گیا۔میں اسٹیشن سے باہر نکل کر برآمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں۔وہ کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر۔اُن کا چہرہ پریشان ہے۔میں اُن کے پاس گیا اور کہا صاحب ! آپ باہر پھر رہے ہیں میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے منشی صاحب! آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے۔میں نے کہا کچھ بتا ئیں تو سہی آخر آ کی طبیعت کیوں خراب ہوگئی ہے تا کہ اس کا مناسب علاج کیا جا سکے۔اس پر وہ کہنے لگے جب سے میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اُس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہگار نہیں ، ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اُس کنارے کی طرف نکل جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں میں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہے میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب! آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھیے۔سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں۔وہ بھی انگریز ہیں اُن کو بلا