خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 79

خطبات محمود جلد نمبر 38 79 $1957 وہ اعزاز کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کو یہ بات بُری لگی۔اُس وقت انگریز مولویوں کو بہت ذلیل سمجھتے تھے۔و کہنے لگا ہماری مرضی ہے ہم جسے چاہیں کرسی پر بٹھا ئیں اور جسے چاہیں کرسی نہ دیں۔ان کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ان کا خاندان کرسی نشین ہے اس لیے میں نے انہیں کرسی دی ہے۔تمہاری حیثیت کیا ہے؟ مولوی محمد حسین صاحب کہنے لگے کہ میں اہلِ حدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور میں گورنر کے پاس جاتا ہوں تو وہ بھی مجھے کرسی دیتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کہنے لگا تو بڑا جاہل آدمی ہے۔ملنے جانے اور گواہی کے طور پر عدالت میں پیش ہونے میں بہت فرق ہے۔ملنےکو تو کوئی چوڑھا بھی آئے تو ہم اس کو کرسی دیتے ہیں اور تو تو اس وقت عدالت میں پیش ہے۔اس پر بھی مولوی محمد حسین صاحب کو تسلی نہ ہوئی۔وہ کچھ آگے بڑھے اور کہنے لگے نہیں نہیں مجھے کرسی دینی چاہیے۔ڈپٹی کمشنر کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا بگ بگ مت کر! پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔چپڑاسی تو دیکھتے ہی ہیں کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی نظر کس طرف ہے۔چپڑاسی نے جب ڈپٹی کمشنر صاحب کے الفاظ سنے تو اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو بازو سے پکڑ کر جوتیوں میں لا کھڑا کیا۔جب مولوی صاحب نے دیکھا کہ میری ذلت ہوئی ہے باہر ہزاروں آدمی کھڑے ہیں۔اگر انہیں میری اس ذلت کا علم ہوا تو وہ کیا کہیں گے۔تو کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی۔مولوی صاحب نے سمجھا کہ ذلت کو چھپانے کا بہترین موقع ہے جھٹ کرسی کھینچی اور اُس پر بیٹھ گئے اور خیال کر لیا کہ لوگ کرسی پر بیٹھے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ مجھے اندر بھی کرسی ملی تھی۔چپڑاسی نے دیکھ لیا۔وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا انداز دیکھ چکا تھا۔اُس نے مولوی محمد حسین صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھ کر خیال کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں یہاں بیٹھا دیکھ لیا تو وہ مجھے پر ناراض ہوں گے۔اس خیال کے آنے پر اس نے مولوی صاحب کو وہاں سے بھی اُٹھا دیا اور کہا کہ کرسی خالی کر دیں۔چنانچہ برآمدہ والی کرسی بھی چھوٹ گئی۔باہر آ گئے تو لوگ چادریں بچھائے انتظار میں بیٹھے تھے کہ مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ایک چادر پر کچھ جگہ خالی دیکھی تو وہاں جا کر بیٹھ گئے۔یہ چادر میاں محمد بخش صاحب مرحوم بٹالوی کی تھی جو مولوی محمد حسین صاحب بی سلسلہ کے والد تھے اور اُس وقت غیر احمدی تھے بعد میں وہ احمدی ہو گئے ، انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو غصہ میں آگئے اور کہنے لگے۔میری چادر چھوڑ ! تُو نے تو میری چادر پلید کر دی ہے۔تو مولوی ہو کر عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔چنانچہ