خطبات محمود (جلد 38) — Page 81
خطبات محمود جلد نمبر 38 81 $1957 لیتے ہیں۔شاید اُن کی باتیں سن کر آپ تسلی پا جائیں۔سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کا نام لیمار چنڈ تھا۔سر ڈگلس نے کہا انہیں بلوا لو۔چنانچہ میں انہیں بلالا یا۔جب وہ آئے تو سر ڈگلس نے اُن سے کہا دیکھو! یہ حالات ہیں۔میری جنون کی سی حالت ہورہی ہے۔میں اسٹیشن پر ٹہلتا ہوں اور گھبرا کر اُس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور اُن کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے۔پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جا رہا ہے۔میری یہ حالت پاگلوں کی سی ہے۔اگر تم اس سلسلہ میں کچھ کر سکتے ہو تو کرو ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔لیمار چنڈ نے کہا اس میں کسی اور کا قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے۔آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔وہ لوگ جو کچھ اُسے سکھاتے ہیں وہ عدالت میں آکر بیان کر دیتا ہے۔آپ اُسے پولیس کے حوالے کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ کیا بیان دیتا ہے۔چنانچہ اُسی وقت سر ڈگلس نے کاغذ قلم منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبدالحمید کو پولیس کے حوالہ کیا جائے اور حکم کے مطابق عبد الحمید کو پادریوں سے لے لیا گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔دوسرے دن یا اُسی دن اُس نے فوراً اقرار کر لیا کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں۔لیمار چنڈ کا بیان ہے کہ میں نے اُسے سچ سچ بیان دینے کے لیے کہا تو اُس نے پہلے تو اصرار کیا کہ واقعہ بالکل سچا ہے۔مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔لیکن میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص پادریوں سے ڈرتا ہے۔چنانچہ میں نے کہا میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے حکم لے لیا ہے کہ اب تمہیں پادریوں کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا۔اب تم پولیس کی حوالات میں ہی رہو گے۔تو وہ میرے پاؤں پر گر گیا اور کہنے لگا صاحب! مجھے بچا لو۔میں اب تک جھوٹ بولتا رہا ہوں۔اس نے مجھے بتایا کہ صاحب ! آپ دیکھتے نہیں تھے کہ جب میں گواہی کے لیے عدالت میں پیش ہوتا تھا تو میں ہمیشہ ہاتھ کی طرف دیکھتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پادریوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور عدالت میں بیان دو کہ مجھے مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لیے بھیجا تھا اور امرتسر میں مجھے فلاں مستری کے گھر میں جانے کے لیے ہدایت دی تھی یہ دوست مستری قطب الدین صاحب تھے جن کا ایک پوتا اس وقت جامعہ احمدیہ میں پڑھتا ہے ) تو میں نے کہا میں تو وہاں کے احمدیوں کو جانتا بھی نہیں۔مجھے اس کا نام یاد نہیں رہے گا اس پر مستری صاحب کا نام کوئلہ کے ساتھ