خطبات محمود (جلد 38) — Page 254
$1957 254 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس لیے چھپایا گیا ہے تا کہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ آ جائے اور اسے یہاں لانے کے لیے اب کوئی وقت نہیں۔اس لیے تم میں سے ہر پیشہ والا اپنا سامان جس کے ساتھ وہ کام کرتا ہے ساتھ لے لے اور چل پڑے۔لوہار اپنا ہتھوڑا لے لے، بڑھئی کلہاڑا پکڑ لے اور نان پز اپنی سلاخ ہاتھ میں لے لے اور دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار ہو جائے۔انہوں نے کہا ہم حاضر ہیں۔چنانچہ وہ اپنا اپنا ہتھیار لے کر فوراً اس مقام کی طرف روانہ ہو گئے جہاں دشمن نے رخنہ پیدا کر دیا تھا اور انہوں نے اُس رخنہ کو اُس وقت تک رو کے رکھا جب تک کہ با قاعدہ فوج نہ پہنچ گئی۔اس وقت تک بادلوں یا دھوئیں کی وجہ سے دشمن کو یہ پتا نہ لگ سکا کہ اُن کے سامنے با قاعدہ فوج نہیں کھڑی بلکہ صرف نائی، دھوبی ، موچی اور نان پز وغیرہ کھڑے ہیں اور اُس نے ڈر کر پیش قدمی نہ کی۔بعد میں جب با قاعدہ فوج وہاں پہنچ گئی تو اُس نے اُس رخنہ کو روک لیا۔اُس وقت جب رخنہ واقع ہو گیا تھا انگریزی فوج کے کمانڈر نے اُس وقت کے برطانوی وزیر اعظم مسٹر لائڈ جارج کو تار دی کہ اس وقت حالت سخت نازک ہے، دشمن نے ہماری فوج کی کے درمیان رخنہ پیدا کر دیا ہے اور اس رخنہ کو پُر کرنے کے لیے پیچھے سے فوج نہیں آ سکتی۔اب ہمارے پاس صرف نائی، دھوبی، موچی، بڑھئی اور نان پر ہی ہیں جن کو ہم نے بلایا ہے اور کہا ہے کہ وہ آ کر اس رخنہ کو پُر کریں اور آپ کو پتا ہی ہے کہ نائی اور دھوبی وغیرہ لڑ نہیں سکتے۔جب یہ تار گئی تو مسٹر لائڈ جارج اپنی کا بینہ سے لڑائی کے بارہ میں مشورہ کر رہے تھے۔جب انہوں نے یہ تار پڑھی تو انہوں نے اپنے ساتھی وزراء سے کہا بھائیو! جس بات پر ہم غور کر رہے تھے اُس کا وقت گزر گیا ہے۔اب ہمارے باہمی مشوروں کا کوئی فائدہ نہیں۔اب صرف ایک ہی راہ رہ گئی ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے۔اس لیے آؤ! ہم اپنے گھٹنے ٹیک کر اُس کے سامنے گر جائیں اور اُس سے کہیں کہ وہ ہماری مدد کرے۔چنانچہ وہ خود بھی اور باقی وزیر بھی گھٹنے ٹیک کر خدا تعالیٰ کے حضور گر گئے اور انہوں نے دعا کی کہ اے خدا! اب کوئی دنیوی تدبیر باقی نہیں رہی۔اب تو خود ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت پیدا کر اور ہمیں دشمن کے حملہ سے بچالے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن کی یہ دعا اس طرح سنی کہ نائیوں ، دھوبیوں، بڑھیوں اور لوہاروں نے وہ رخنہ روکے رکھا۔یہاں تک کہ با قاعدہ فوج آگئی اور دشمن کو اُس رخنہ کا علم تک نہ ہو سکا۔ہماری بھی اس وقت یہی حالت ہے۔ہم بھی اب کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ اب دنیوی تدابیر کا