خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 253

$1957 253 خطبات محمود جلد نمبر 38 صرف تیری اور تیرے فرشتوں کی تحریک ہی ہے جو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔اس لیے تو یہاں کے لوگوں کو تحریک کر کہ وہ اپنے فرائض کو اچھی طرح ادا کریں اور جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کریں۔اور باہر والوں کے دلوں میں تحریک کر کہ وہ نیک ارادوں اور نیک مقاصد کو لے کر یہاں کثرت کے ساتھ آئیں۔اور پھر یہاں آ کر وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ جلسہ کے اوقات میں بھی اور بعد میں بھی تسبیح اور تحمید میں لگے رہیں تا کہ وہ جلسہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا ئیں۔اور جب وہ یہاں سے واپس جائیں تو اُن میں اس قدر تبدیلی پیدا ہو چکی ہو کہ وہ پہلے جیسے انسان نہ ہوں بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے فرشتے ہوں جو آسمان سے اُترے ہوں۔در حقیقت ہماری مثال اس وقت ویسی ہی ہے جیسے پہلی جنگ عظیم میں ایک موقع پر ایسی خطر ناک صورت پیدا ہوئی کہ شہنشاہ جرمنی کی فوج نے اتحادیوں کی فوج میں رخنہ پیدا کر دیا۔لیکن اُس وقت شاید بادلوں کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ دھواں اُن کے سامنے آ گیا جرمن فوج کو اس رخنہ کا علم نہ ہو سکا۔جب اتحادیوں کو اس رخنہ کا پتا لگا تو فرانسیسی جرنیل نے انگریزی فوج کے جرنیل کو بلایا اور کہا کہ تم اس رخنہ کو پُر کرنے کا انتظام کرو۔اُس جرنیل نے کہا ہماری فوج پچاس ساٹھ میل دور ہے اور جب تک وہ فوج آئے گی جرمن فوج شہر میں داخل ہو جائے گی اس لیے اب فوج کو بلانا بیکار ہے۔تب فرانسیسی جرنیل نے ایک کنیڈین جرنیل کو بلایا۔وہ آرڈی نینس 1 پر مقررتھا۔اُس کے ماتحت لڑا کا سپاہی نہیں تھے بلکہ نائی، دھوبی ، بڑھتی ، موچی اور نان پز وغیرہ تھے۔فرانسیسی جرنیل نے اُسے کہا میں نے تمہاری بہت مشہرت سنی ہے۔کیا تم کوئی ایسی صورت نہیں کر سکتے کہ کسی طرح اس رخنہ کو آٹھ دس گھنٹے تک پُر کر دو؟ پھر باقاعدہ فوج آگئی تو وہ دشمن کو روک لے گی۔اُس نے کہا ہاں میں ایسا کر سکتا ہوں۔چنانچہ وہ وہاں سے واپس گیا اور اُس نے اپنے سب نائیوں ، دھوبیوں، موچیوں ، بڑھیوں، لوہاروں ، باورچیوں اور نان پزوں کو اکٹھا کیا اور کہا تمہیں بھی کئی دفعہ جوش آتا ہو گا کہ کاش! ہمارے پاس بھی ہتھیار ہوتے تو ہم وطن کے لیے اپنی جانیں لڑا دیتے۔تم سوچتے ہو گے کہ لڑنے والے لوگ کتنا ثواب حاصل کر رہے ہیں اور وطن کے لیے اپنی جانیں لڑا رہے ہیں۔لیکن آج تمہارے لیے بھی موقع پیدا ہو گیا ہے اور آج تم بھی وہی فخر حاصل کر سکتے ہو جو انہیں حاصل ہے۔لیکن یاد رکھو کہ میرے پاس اس وقت کوئی بندوق اور اسلحہ نہیں۔وہ پچاس ساٹھ میل پیچھے ہے اور اسے محاذ سے دور