خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 167

167 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 کہ اگر مجسٹریٹ نے سزا دی تو وہ اُسے پتھر مار کر مار ڈالیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ان کے دونوں ہاتھ پکڑنے کا حکم دے دیا تا کہ وہ جوش میں آکر حملہ نہ کر بیٹھیں۔غرض صبر کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتی ہے اور جب کوئی صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ تعالی کی مدد اُس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔وَلَا تَحْزَنُ عَلَيْهِمْ میں یہی پیشگوئی کی گئی ہے کہ مخالفین کے متعلق غم نہ کر۔اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ ان کو تباہ کر دے۔چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے کتنی شرارتیں کیں۔مگر آخر وہ خائب و خاسر ہو کر رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی فتح یاب ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ صفا پہاڑی پر بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ ابو جہل آ نکلا اور اس نے بغیر کوئی بات کہے آپ کے منہ پر زور سے تھپڑ مار دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صرف اتنا فرمایا کہ میں نے آپ لوگوں کا کیا بگاڑا ہے؟ میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ خدا ایک ہے۔حضرت حمزہ کی ایک لونڈی گھر کے دروازہ میں کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔وہ دل ہی دل میں کڑھتی اور پیچ و تاب کھاتی رہی۔شام کو حضرت حمزہ شکار سے واپس آئے اور گھر میں داخل ہوئے تو لونڈی غصہ سے کہنے لگی۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ آج تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ پتھر پر چپ کر کے بیٹھا تھا کہ ابو جہل نے اُس کے منہ پر پتھر مار دیا۔حمزہ اُسی وقت خانہ کعبہ میں پہنچے جہاں تمام رؤسائے مکہ بیٹھے تھے اور ابو جہل بھی اُن میں موجود تھا۔انہوں نے جاتے ہی زور سے ابو جہل کے منہ پر کمان ماری اور کہا تو نے آج میرے بھتیجے کو تھپڑ مارا ہے۔اگر تجھ میں طاقت ہے تو میرا مقابلہ کر۔ابو جہل پر ایسا کی رعب طاری ہوا کہ وہ کہنے لگا۔بے شک میرا ہی قصور تھا کہ میں نے اسے بلا وجہ مارا۔اس کے بعد حمزہ سیدھے اُس مکان پر گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور اسلام قبول کر لیا۔2 اب دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صبر سے کام لیا تھا مگر خدا نے آپ کی طرف سے اُسی وقت بدلہ لے لیا۔اسی طرح بدر میں کفار مکہ کا جو حال ہوا وہ ظاہر ہے۔ابو جہل نے دعا کی تھی کہ الہی اگر محمد رسول اللہ سچا ہے تو ہم پر پتھر پڑیں۔پھر ایسا ہی ہوا۔ابو جہل مارا گیا اور اس کے ساتھیوں پر ایسا رُعب طاری ہوا کہ وہ شکست کھا کر بھاگ نکلے۔3