خطبات محمود (جلد 38) — Page 166
166 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 قابو میں ہے مگر فرماتا ہے تمہارا اپنے نفس پر اعتبار کرنا غلط ہے۔تمہیں یہ توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی میسر آ سکتی ہے۔وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمُ پھر فرماتا ہے۔اگر تم صبر سے کام لو گے اور اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو گے تو خدا تعالیٰ خود تمہارے مخالفوں کو نا کام کر دے گا۔پس یہ خیال نہ کرو کہ تمہارے صبر کی وجہ سے مخالف دلیر ہو جائے گا اور وہ تم پر چڑھ آئے گا بلکہ تمہارا صبر تمہارے مخالفوں کی تدابیر کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔پس ان کے متعلق غم مت کر۔خدائی فیصلہ یہی ہے کہ جو مومنوں کو بلا وجہ تکلیف دیتا ہے وہ تباہ کر دیا جاتا ہے۔تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوا۔آدم، نوح، ابراہیم ، موسی ، عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ان کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوتے چلے آئے ہیں۔اُمت محمدیہ کے اولیاء اور مجددین سے بھی یہی سلوک ہوتا رہا۔حضرت سید احمد صاحب سر ہندی کو جہانگیر نے گوالیار کے قلعہ میں قید کر دیا مگر پھر وہی جہانگیر قلعہ میں آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے معافی مانگی اور انہیں رہا کیا۔غرض صبر کے نتیجہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ظاہر ہوتی ہے مگر صبر کرنا آسان بات نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک پروفیسر عبداللہ ہوا کرتے تھے۔ان کی عادت تھی کہ جب بھی کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بُرا بھلا کہتا وہ اُس سے لڑ پڑتے۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب نے ان کی شکایت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ انہیں سمجھایا جائے۔آپ نے پروفیسر عبداللہ صاحب کو بلایا اور فرمایا کہ دیکھیں ! صبر سے کام لیں اور اگر مجھے کوئی بُرا بھلا بھی کہے تو اشتعال میں نہ آیا کریں۔اس پر وہ بڑے جوش سے کہنے لگے کہ میں ایسی بات نہیں مان سکتا۔آپ کے پیر یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی گالی دے تو آپ اُس سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور میرے پیر یعنی آپ کو کوئی گالی دے تو آ کہتے ہیں صبر سے کام لو۔میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ان کے اندر اس قدر جوش پایا جاتا تھا کہ جب کرم دین کے مقدمہ کا فیصلہ ہونے لگا جس میں مجسٹریٹ نے آپ کو سزا دینے کا ارادہ کیا ہوا تھا تو وہ ایک بڑا سا پتھر اٹھائے پھرتے تھے