خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 168

168 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 اسی طرح ایک دفعہ زمانہ نبوت میں ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا ابو جہل نے میرا کچھ قرض دینا ہے مگر وہ دیتا نہیں۔آپ حلف الفضول میں شامل تھے۔آپ مجھے قرض دلا دیں۔آپ اُسی وقت اُس کے ساتھ چل پڑے اور ابو جہل سے جا کر بات کی۔ابو جہل فوراً اندر گیا اور اس نے روپیہ لا کر دے دیا۔بعد میں جب کفارِ مکہ نے اسے طعنہ دیا تو اس نے کہا کہ جب محمد رسول اللہ میرے پاس آئے تھے تو خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ دو مست اونٹ اس کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی انکار کیا تو وہ مجھے کھا جائیں گے۔جس پر میں ڈر گیا اور میں نے روپیہ لا کر دے دیا۔4 یہ خدائی نشان تھا جس کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ کی اس نے مدد کی اور دشمن کے دل میں اس نے رعب پیدا کر دیا۔اسی طرح طائف سے واپسی پر چونکہ ملکی قانون کے مطابق آپ مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے آپ نے اپنے ایک شدید مخالف کو پیغام بھیجا کہ میں مکہ میں آنا چاہتا ہوں کیا تم اپنی پناہ میں مجھے داخل کر سکتے ہو؟ اُس نے فوراً اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ جنگی تلوار میں لو اور اُن کے سایہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر پہنچاؤ۔چنانچہ وہ نگی تلوار میں لیے آپ کے آگے آگے آئے اور یہ کہتے آتے تھے کہ اگر کسی نے ذرا بھی سراٹھایا تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔اس طرح خدا نے ایک شدید ترین دشمن سے آپ کی حفاظت کروائی اور آپ سلامتی سے اپنے گھر پہنچ گئے۔۔غرض یہ موقع پر خدائی تائید اور نصرت کے نظارے ہمیں آپ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک مقام پر فرماتا ہے کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ ری 6 یعنی اے محمد رسول اللہ ! بدر کے موقع پر جو تو نے کنکروں کی مٹھی پھینکی تھی وہ بظاہر تو نے پھینکی تھی لیکن اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ تھا کہ ایک ہزار کا لشکر اندھا ہو گیا اور اُس نے بھاگ کر مکہ میں جا کر سانس لیا۔اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر جبکہ کئی ہزار کا لشکر مدینہ کے ارد گرد ڈیرہ ڈالے پڑا تھا۔اللہ تعالیٰ نے رات کو ایسی تیز ہوا چلائی کہ دشمن کی آگیں بجھ گئیں۔عرب لوگ آگ بجھنا منحوس خیال کیا کرتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ تمام جرنیل بھاگ گئے۔خود ابوسفیان اس قدر گھبرایا کہ اُسے اونٹ کا گھٹنا کھولنا بھی یاد نہ رہا۔وہ اسی حالت میں اُس پر سوار ہو گیا اور اُسے لاتیں مارنے لگ گیا۔آخر کسی