خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 208

$1957 208 خطبات محمود جلد نمبر 38 جب اس سے کہا جائے کہ وہ مسیح علیہ السلام کی طرح کوئی نیک کام کرے تو وہ فورا رک جاتا ہے اور کہتا ہے ہے کہ میں تو یہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ جس کی نقل کرنے کے لیے مجھے کہا گیا ہے وہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے اور میں بندہ ہوں۔اور پھر میں ایک ایسے آدمی کی اولاد ہوں جس سے ورثہ میں مجھے گناہ ملا ہے۔یعنی میرے عقیدہ کے مطابق آدم بھی گنہگار تھے۔اُن کی اولاد بھی گنہ گار ہے۔پھر میں کیسے نیکی کر سکتا ہوں؟؟ تو دیکھو کتنا بڑا فرق ہے ایک مسلمان اور ایک عیسائی میں؟ ایک مسلمان تو ہر نیکی کے بعد خوش ہوتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس لیے بھی نیکی کے قابل ہوں کہ خدا تعالیٰ نے پیدائش سے میری فطرت میں پاکیزگی رکھی ہے اور اس لیے بھی نیکی کے قابل ہوں کہ جس کی نقل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے وہ میرے جیسا ہی ایک انسان ہے۔پس اپنے متبوع کے لحاظ سے بھی یعنی جس کی میں نے نقل کرنی ہے میں اس قابل ہوں کہ اس کی نقل کر سکوں۔اور اس لحاظ سے بھی میں قابل ہوں کہ میرے اندر ذاتی قابلیت پائی جاتی ہے۔لیکن ایک عیسائی جانتا ہے کہ جہاں تک قابلیت کا سوال ہے میں نیکی کے ناقابل ہوں۔اور جہاں تک نقل کا سوال ہے میرے لیے یہ بھی ناممکن ہے کیونکہ جس کی نقل کرنے کے لیے مجھے کہا گیا ہے وہ خدا کا بیٹا ہے۔غرض وہ دونوں طرح نیکی سے محروم رہتا ہے اور مسلمان دونوں طرح نیکی سے محروم نہیں بلکہ نیکی کے قابل ہے اور اس پر قادر ہے۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ۔تمہارا کسی تکلیف میں مبتلا ہونا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت شاق گزرتا ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کو کسی کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ اس کی خاطر بہت تکلیف اٹھا رہا ہے تو وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور اس کی قدر اور عظمت اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اس کی مدد کے لیے انتہائی جوش کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔یہی کیفیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارے دلوں میں پیدا ہونی چاہیے اور آپ کی مدد کو ہمیں اپنا نصب العین بنالینا چاہیے۔جس کا صحیح طریق یہ ہے کہ آپ کے دین کی اشاعت کی جائے اور آپ جس پیغام کو دنیا تک پہنچانا چاہتے ہی تھے اُسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جائے۔اسی مضمون کو دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ ، اَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - 2 یعنی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھتے ہیں