خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 177

$1957 177 خطبات محمود جلد نمبر 38 کوئی رستہ نظر نہ آئے۔معمولی کھانسی اور بخار ہو اور انسان ڈاکٹروں کے پاس جائے تو وہ کہتے ہیں گھبراؤ نہیں۔اچھے ہو جاؤ گے۔لیکن جب کسی مریض کی حالت زیادہ خطر ناک ہو جائے تو ڈاکٹر کہتے ہے ہیں کہ اب اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔یہ تقدیر بری ہو سکتی ہے۔کیونکہ عام صورتوں میں تو علاج ممکن۔لیکن خطر ناک صورتوں میں ممکن نہیں ہوتا۔اور اُس وقت انسان مضطر ہوتا ہے اور گھبرا کر ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ كه جب مضطر یعنی تدبیروں سے مایوس ہو جانے والا انسان اسے پکارتا ہے تو بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کون اُس کی پکار کو سنتا اور اُس کی حاجت کو پورا کرتا ہے؟ گویا جب لوگ دنیا کے مصائب سے تنگ آ جاتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میرے خلاف خدا کی تقدیر جاری ہو گئی ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اُس کی دعاؤں کو سنتا اور تقدیروں کو ٹال دیتا ہے۔غرض بُری تقدیر کو روکنے کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان دعاؤں سے کام لے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ کسی انسان کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کو روک سکے۔سواس کے متعلق ایک مشہور قصہ یا درکھنا چاہیے۔روس کا ایک بادشاہ تھا۔اُس کا ایک چپڑاسی ہوا کرتا تھا جس کا نام ٹالسٹائے تھا۔اب تو وہ خاندان نواب بنا ہوا ہے لیکن شروع زمانہ میں جو روس کا بادشاہ تھا ٹالسٹائے اُس کا چپڑ اسی ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ بادشاہ کو کوئی ضروری کام تھا۔اُس نے ٹالسٹائے سے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ آج کسی کو قلعہ میں داخل نہ ہونے دو۔میں بعض مسائل پر غور کر رہا ہوں اور مجھے تخلیہ کی ضرورت ہے۔ٹالسٹائے نے کہا بہت اچھا۔اس نے کہا دیکھو! میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ آج کی قلعہ میں کوئی شخص داخل نہ ہو۔وہ کہنے لگا حضور ! میں کسی کو داخل نہیں ہونے دوں گا۔اتنے میں دروازہ پر کسی نے دستک دی۔ٹالسٹائے نے دیکھا تو وہ شہزادہ تھا۔چپڑاسی نے اُسے روکا اور کہا حضور ! آج اندر نہیں جانا۔اس نے بڑے جوش سے کہا کہ تمہاری کیا طاقت ہے کہ مجھ کو جو شاہی خاندان کا فرد ہوں اندر داخل ہونے سے روکو۔اس نے کہا حضور! میں کیا کروں؟ مجھے بادشاہ کی طرف سے حکم ہے کہ میں آج کسی کو اندر داخل نہ ہونے دوں۔اس نے کہا اس حکم کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا کیونکہ روسی کانسٹی ٹیوشن کے مطابق بادشاہ شہزادوں کے حقوق تلف نہیں کر سکتا۔اس لیے آگے سے ہٹ جاؤ ورنہ میں ماروں گا۔اُس نے کہا حضور! میں اندر نہیں جانے دوں گا۔شہزادہ نے کوڑا اٹھایا اور اسے مارنا شروع کر دیا۔وہ خاموش کھڑا رہا اور کوڑے کھاتا رہا۔مارنے کے بعد اس نے سمجھا کہ اب یہ مجھے