خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 178

$1957 178 خطبات محمود جلد نمبر 38 رستہ دے دے گا۔مگر جب وہ آگے بڑھنے لگا تو ٹالسٹائے نے اسے پھر روک دیا اور کہا حضور ! شہزادے ہیں میں آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر میں اندر نہیں جانے دوں گا۔اتنے میں شور کی آواز بادشاہ نے بھی سن لی۔اس نے اوپر سے آواز دی کہ ٹالسٹائے کون ہے؟ اس پر شہزادے نے بڑے غصے سے کہا حضور ! اس نے میری سخت ہتک کی ہے۔بادشاہ نے کہا تم دونوں اوپر آ جاؤ۔چنانچہ وہ دونوں اوپر چلے گئے۔بادشاہ نے شہزادے سے پوچھا کہ اس نے کیا ہتک کی ہے؟ اس نے کہا میں شہزادہ ہوں مگر اس نے مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔بادشاہ نے ٹالٹائے سے کہا کیا تم نے اسے روکا تھا ؟ اس نے کہا ہاں حضور ! روکا تھا۔بادشاہ نے کہا تمہیں پتا نہیں تھا کہ یہ شہزادہ ہے؟ اس نے کہا حضور پتا تھا۔بادشاہ نے کہا پھر تم نے کیوں روکا؟ اُس نے کہا حضور نے فرمایا تھا کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا۔اس پر بادشاہ نے شہزادہ سے کہا میں اوپر سے دیکھتا رہا ہوں کہ یہ میرا نام لیتا رہا مگر تم پھر بھی اسے کوڑے مارتے رہے۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ٹالسٹائے تمہیں اُسی طرح کوڑے مارے جس طرح تم نے اسے مارے ہیں۔چنانچہ اُس نے ٹالسٹائے سے کہا کوڑا اٹھاؤ اور اسے مارو۔اس پر شہزادہ کہنے لگا روسی کانسٹی ٹیوشن کے مطابق کوئی غیر فوجی کسی فوجی کو نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے ! میں نے تم کولیفٹینٹ بنا دیا ہے۔اب کوڑا لو اور اسے مارو۔شہزادہ کہنے لگا حضور! یہ بھی قانون ہے کہ کوئی عام آدمی شہزادے کو نہیں مار سکتا۔اُس نے کہا اچھا! کونٹ ٹالسٹائے تم اسے مارو۔گویا کونٹ (COUNT) کے لفظ سے ہی اُسے نواب بنا دیا۔پرانے زمانہ میں جب کسی کو نواب بناتے تھے تو بادشاہ اسے اعزاز کے طور پر اپنی سوٹی دیا کرتا تھا۔اس نے بھی ٹالسٹائے کو سوٹی دی اور کہا اسے مارو۔چنانچہ ٹالٹائے نے اُسے مارا۔اُس دن سے وہ خاندان اب تک کونٹ چلا آتا ہے۔اب دیکھو! گوروس کی کانسٹی ٹیوشن کچھ اور تھی مگر بادشاہ نے بتا دیا کہ میں اسے تو ڑ بھی سکتا ہوں۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ بے شک بُری تقدیریں بھی ہوتی ہیں مگر ان تقدیروں کو توڑنے والے ہم موجود ہیں۔تم یہ کیوں کہتے ہو کہ یہ خدا کی تقدیر ہے جوٹل نہیں سکتی۔جس کو بنانے کا حق ہے اُس کو توڑنے کا بھی حق ہے۔چنانچہ دیکھ لو پاکستان کی کانسٹی ٹیوشن بنی تو اس میں ایک دفعہ انہوں نے یہ بھی رکھ دی کہ اتنے ممبر ہوں تو یہ کانسٹی ٹیوشن بدلی جاسکتی ہے۔چونکہ آجکل جمہوریت کا دور ہے اس لیے ممبروں کی تعیین کر دی گئی ہے۔ورنہ انگریز کے زمانہ میں