خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 76

1957ء 76 خطبات محمود جلد نمبر 38 اُس کو قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی نظر آگئی اور کوئی چیز اس کو اسلام سے ہٹانے والی نہ رہی ۔ ہمارے منشی اروڑے خاں صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے نے صحابی تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کپورتھلہ آنے کے لیے لکھا اور کہا آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں تو یہاں کے رہنے والے بھی آپ کی زیارت کریں اور آپ کی باتیں سنیں منشی صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دن میں ایک دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔ کپورتھلہ میں ایک شخص تھا جو کسی مجسٹریٹ کا کلرک تھا اور احمدیت کا بڑا دشمن تھا۔ اس ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یکہ پر سے اُترتے ہوئے دیکھ لیا تو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا منشی صاحب آپ یہاں بیٹھے ہیں اور آپ کا پیراڈے پر یکہ پر سے اُتر رہا ہے۔ منشی صاحب سنایا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کپورتھلہ آنے کی درخواست تو کی تھی اور آپ نے میری اس درخواست کو قبول فرما کر کپورتھلہ آنے کا وعدہ بھی کیا تھا مگر میرا خیال تھا کہ آپ کو کپورتھلہ آنے کی فرصت ہی کہاں مل سکتی ہے۔ اس لیے جب اُس کلرک نے مجھے آپ کی آمد کی اطلاع دی تو مجھے اُس کی بات پر یقین نہ آیا اور میں نے سمجھا کہ یہ مجھ سے مذاق کر رہا ہے۔ چنانچہ مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ میں نے غصہ میں اپنی جوتیاں تو دکان پر چھوڑیں اور ننگے پاؤں اس شخص کے پیچھے بھاگا اور اس کو مغلظ گالیاں دیتے ہوئے کہا خبیث ! تو جھوٹ بولتا ہے، تو مخول کرتا ہے اور میرا دل دُکھاتا ہے۔ وہ میرے آگے بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ ایک جگہ اس نے ذرا ٹھہر کر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا میں نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے۔ تم مجھے گالیاں دیتے رہو گے اور مرزا صاحب کسی اور گھر میں چلے جائیں گے۔ چنانچہ میں اڈے کی طرف گیا تو آپ تشریف لا رہے تھے۔ انہی منشی صاحب کا یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ صاحب کپورتھلہ گئے ۔ لوگ آپ کو ان کے پاس لے گئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب تقریر کرنے لگے۔ تقریر میں انہوں نے بہت سی دلیلیں دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نَعُوذُ بِاللہ جھوٹے ہیں ۔ منشی صاحب بہت کم تعلیم والے تھے۔ وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کر کے کہنے لگے۔ مولوی صاحب ! ابھی تو