خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 75

$1957 75 خطبات محمود جلد نمبر 38 چاہے ہم مر جائیں یا جیئیں اس کی پروا نہیں۔بہر حال ہمیں ان عورتوں کے سونٹے کھانا مناسب نہیں۔ہم ان کے طعنے نہیں برداشت کر سکتے۔عیسائیوں کی تلوار میں کھانا ان سے سہل امر ہے۔چنانچہ وہ دونوں واپس کو ٹے۔اسی طرح اسلامی لشکر بھی واپس لوٹا اور بعد میں مسلمانوں کو عیسائیوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوئی۔ی تھی وہ ہندہ جو ایک وقت میں اسلام کی اتنی شدید دشمن تھی کہ وہ شعر پڑھ پڑھ کر کفار کو مسلمانوں سے جنگ کے لیے اُکساتی تھی۔فتح مکہ کے بعد اس کے قتل کا فتویٰ جاری کیا گیا۔لیکن قبل اس کے کہ اسے گرفتار کیا جاتا وہ عورتوں میں چھپ کر بیعت میں شامل ہو گئی۔کیا اس کے متعلق اس وقت کوئی انسان یہ خیال کر سکتا تھا کہ کسی وقت یہ عورت اسلام کے لیے قربانی کرے گی ؟ لیکن وہی ہندہ جو اسلام کی شدید دشمن تھی اسلام لانے کے بعد اسلامی فتوحات میں حصہ دار بن گئی۔غرض تاریخ اسلامی کا ایک ایک واقعہ پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لَقَدْ اَنْزَلْنَا ایت مُبيِّنت کے مطابق ایک ایسا نشان ہے جس نے حقیقت حال کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔اور بتایا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر اسلام میں داخل ہونا کوئی بوجھ نہیں کیونکہ دوسرے لوگوں کے لیے ان کے مذہب غیب ہیں لیکن تمہارا مذہب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی غیبی طاقتوں کو ظاہر کر دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی اور مذہب نہیں ٹھہر سکتا۔پھر دیکھ لو! یہ نمونہ آج تک چلا آ رہا ہے۔اسلام میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو لَقَدْ اَنْزَلْنَا آیتِ مُبَيِّنَتِ کے ذریعہ اسلام کی روشنی کو ثابت کرتے رہے۔ابتدائی زمانہ میں حضرت جنید بغدادیؒ تھے ، سید عبد القادر جیلانی تھے، شبلی تھے اور ابراہیم ادھم ” تھے ، ابن تیمیہ تھے، ابن قیم تھے ، امام غزالی تھے اور ان کے علاوہ کئی اور بزرگ تھے۔پھر آخری زمانہ میں حضرت شاہ ولی اللہ ہوئے ، خواجہ باقی باللہ ہوئے، معین الدین چشتی ” ہوئے ، نظام الدین اولیاء ہوئے، قطب الدین بختیار کا کی "ہوئے ، فرید الدین شکر گنج " پاک پٹن والے ہوئے۔یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کا قرب پا کر آیات بینات کا مقام حاصل کر گئے تھے۔ان میں سے ہر شخص کو دیکھ کر لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے تھے۔جب ان کا نور دُھندلا ہوا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے اندر پیدا کیا اور ان کا وجود ہمارے لیے آیات بینات بن گیا۔جو شخص بھی آپ کے پاس بیٹھا