خطبات محمود (جلد 38) — Page 20
1957ء 20 خطبات محمود جلد نمبر 38 یوسٹ بھی ہے۔ بیشک کہنے والے کہیں گے کہ ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے اور یہ ایسی خواہیں دیکھنے لگ گئے ہیں ۔ لیکن ہمیں اپنے خدا پر یقین ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جو باتیں اس کی طرف سے ظاہر کی جاتی ہیں وہ پوری ہو کر رہتی ہیں۔ دیکھو! قادیان سے نکلنے کے متعلق جو میری رویا تھی اس کے متعلق کون کہہ سکتا تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ لیکن پھر ویسا ہی ہو گیا۔ اسی طرح کثرت سے ایسی رویا ہوئیں جو پوری ہوئیں۔ روس کے متعلق رویا ہوئیں، انگلستان کے متعلق رویا ہوئیں، جرمنی کے متعلق رویا ہوئیں اور وہ پوری ہوئیں۔ پس بیشک کہنے والے ہمیں پاگل کہتے رہیں لیکن الہی منشا یہی ہے کہ وہ ہمارے لیے برکت کے سامان پیدا کرے اور جماعت سے اشاعت اسلام کا کام کرائے تا کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ ہوں اور ہمیں بوسہ دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زندہ ہونا اور آپ کا بوسہ دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کے چھوٹے ہوئے نے ( مسیح کے معنے یہی ہیں ) کسی کو چھوا تو تم یہ سمجھو کہ گویا خدا تعالیٰ نے ہی اسے چھوا۔ دیکھو! بجلی جب کسی تار میں آ جاتی ہے تو کتنی روشنی ہو جاتی ہے۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کو چھوئے تو اُس کا چھو نا آگے چلتا نہ چلا جائے ۔ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا اور خدا تعالیٰ کا وہ ہاتھ اب تک تیرہ سوسال سے برکت دیتا چلا آ رہا ہے اور قیامت تک دیتا چلا جائے گا ۔ اسی طرح اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوا اور ان کے بوسہ دینے اور چھونے سے ہمارے اندر سینہ سینکڑوں اور ہ: ٹروں اور ہزاروں سال تک برکت چلتی چلی جائے گی۔ یہی بات اس شعر میں بیان کی گئی ہے کہ :۔ گر زنده شوم عجب مدارید اگر میں ان کے بوسہ سے زندہ ہو جاؤں تو لوگو! اس پر تعجب نہ کرنا۔ پس اس رؤیا کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام دنیا میں پھر زندہ ہونے والا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی یہی غرض تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہو جائیں ۔ اور میری زبان پر یہ جاری ہونا کہ ”گر زندہ شوم عجب مدارید رید بتا بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ زندہ ہونے والے ہیں اور ان کے ذریعہ اسلام کا نور پھر زندہ ہو جائے گا۔ بے شک لوگ